مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 479 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 479

مکتوبات احمد ۴۷۹ جلد اول جانتے ہیں کہ خدا اور رسول نے مولوی عبد اللہ کا کوئی درجہ مقرر نہیں کیا اور نہ ان کے بارے میں کوئی خبر دی ۔ یہ فقط آپ کا نیک ظن ہے جو آپ نے ان کو نیک سمجھ لیا ورنہ کسی حدیث یا آیت سے تو ثابت نہیں کہ در حقیقت پاک دل تھے ۔ ہاں جہاں تک ہمیں خبر ہے وہ پابند نماز تھے ۔ رمضان کے روزے رکھتے تھے اور بظاہر دیندار مسلمان تھے ۔ اندرونی حال خدا کو معلوم ۔ حافظ محمد یوسف صاحب نے کئی دفعہ قسم کو یاد کرنے سے یقین کامل سے کئی مجلسوں میں میرے رو برو بیان کیا کہ ایک دفعہ عبداللہ صاحب نے اپنے کسی خواب یا الہام کی بنا پر فرمایا تھا کہ آسمان سے ایک نور قادیان میں گرا۔ جس کے فیضان سے ان کی اولاد بے نصیب رہ گئی ۔ حافظ صاحب زندہ ہیں ۔ ان سے پوچھ لیں ۔ پھر آپ کی شکایت کس قدر افسوس کے لائق ہے ۔ اور اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے کہ ہمیشہ مولوی عبداللہ غزنوی کی نسبت میرا نیک ظن رہا ہے ۔ اگر چہ بعض حرکات ان کی میں نے ایسی بھی دیکھیں کہ اس حسن ظن میں فرق ڈالنے والی تھیں ۔ تاہم میں نے ان کی طرف کچھ خیال نہ کیا اور ہمیشہ سمجھتا رہا کہ وہ ایک مسلمان اپنی فہم اور طاقت کے موافق پابند سنت تھا لیکن میں اس سے مجبور رہا کہ میں ان کو ایسے درجہ کا انسان خیال کرتا کہ جیسے خدا کے کامل بندے مامورین ہوتے ہیں اور مجھے خدا نے اپنی جماعت کے نیک بندوں کی نسبت وہ وعدے دیئے ہیں کہ جو لوگ ان وعدوں کے موافق میری جماعت میں سے روحانی نشو و نما پائیں گے اور پاک دل ہو کر خدا سے پاک تعلق جوڑ لیں گے ۔ میں اپنے ایمان سے کہتا ہوں کہ میں ان کو صد ہا درجہ مولوی عبداللہ غزنوی سے بہتر سمجھوں گا اور سمجھتا ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ ان کو وہ نشان دکھلاتا ہے کہ جو مولوی عبداللہ صاحب نے نہیں دیکھے اور اُن کو وہ معارف سمجھاتا ہے جن کی مولوی عبد اللہ صاحب کو کچھ بھی خبر نہیں تھی اور انہوں نے خوش قسمتی سے مسیح موعود کو پایا اور اسے قبول کیا مگر مولوی عبداللہ صاحب اس نعمت سے محروم گزر گئے ۔ آپ میری نسبت کیسا ہی بدگمان کریں اس کا فیصلہ تو خدا کے پاس ہے لیکن میں بار بار کہتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور اس نور میں میرا پودا لگایا گیا ہے جس نور کا وارث مہدی آخر زمان چاہیے تھا۔ میں وہی مہدی ہوں ۔ جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ وہ حضرت ابو بکر کے درجہ پر ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابو بکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے ۔ یہ ا