مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 465 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 465

ذکر ضمناً آگیا۔حافظ محمد یوسف اس وقت احمدیت کے ایک سرگرم مبلغ تھے اور اس غرض کے لئے وہ اپنا روپیہ بھی خرچ کرتے تھے۔مجھے ان لوگوں سے انصاف کرنا چاہئے کہ یہ پارٹی بڑے جوش سے کام کر رہی تھی۔ان سب کی روح رواں حافظ صاحب ہی تھے۔وہ صاحب الہام ہونے کے بھی مدعی تھے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ انہیں اپنے الہامات اور کشوف ہی کی وجہ سے اس طرف زیادہ تر توجہ تھی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بھی، جب اس نے حضرت اقدس کی مخالفت کا اظہار کیا، حافظ صاحب مباحثہ کی طرف بلاتے رہے اورایک مرتبہ منشی امیر الدین صاحب کے مکان پر حضرت حکیم الامۃ مولانا نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کرادیا اور اگست ۱۸۹۱ ء میں چوٹی کے علماء مخالف الرائے کے نام ایک جماعت کو شامل کر کے مباحثہ کی دعوت دی۔اس وقت ایک عام شور برپا تھا۔لودہانہ سے ایک جماعت اہلِ اسلام نے علماء کے نام ایک خط شائع کیا اور لاہور سے حافظ صاحب نے چند سربرآوردہ اورممتاز مسلمانوں کو ساتھ ملا کر مولوی محمد صاحب لکھوکے وغیرہ متعدد علماء کے نام ایک خط لکھا تاکہ وہ حضرت اقدس کے دعاوی کے متعلق ایک فیصلہ کن مباحثہ کر لیں۔یہ خطوط اور حضرت اقدس کا جواب انہیں ایام میں اخبار ریاض ہندامرتسر کے ضمیمہ میں شائع ہو گیا تھا۔میں ان کو یہاں بھی بطور ضمیمہ حافظ صاحب کے نام کے خطوط کے بعد درج کر دوں گا۔(انشاء اللہ العزیز) اس سے ظاہر ہے کہ حافظ صاحب کس قدر اس سلسلہ میں سرگرم تھے۔یہاں تک ہی نہیں، حافظ محمد یوسف صاحب پہلے آدمی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے مولوی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کیا اور اس مباہلہ کا اثر اسی وقت ہی ظاہر ہو گیا۔حافظ محمد یوسف صاحب نے مباہلہ کے بعد کہا کہ اگر اس مباہلہ کا کچھ بھی اثر مجھ پر ہو ا تو میں اپنے عقیدہ سے رجوع کر لوں گا لیکن جب مولوی عبدالحق سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ اگر میں اپنی اس بددعا سے سؤر، بندر اور ریچھ بھی ہو جائوں تب بھی اپنا عقیدہ تکفیر ہرگز نہ چھوڑوں گا اور کافر کہنے سے باز نہ آئوں گا۔یہ بجائے خود عبدالحق پر مباہلہ کا اثر تھا کہ اس کی فطرت مسخ ہوگئی۔حافظ صاحب کی یہ سرگرمیاں جاری رہیں اور حافظ صاحب نے اپنا ایک کشف خصوصیت سے