مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 462
مکتوب نمبر ۲۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ ۱؎ اشتہار صداقت آثار میں مرزا غلام احمد ولد مرزا غلام مرتضیٰ ساکن قادیان ضلع گورداسپور اس وقت بذریعہ اس اشتہار کے خاص و عام کومطلع کرتا ہوں کہ میرا یہ دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام وفات پا گئے جیسا کہ اللہ شانہ فرماتا ہے۔۲؎ حدیثِ نبوی اور قول ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کردیا ہے کہ اس لفظ اور نیز لفظ ۳؎کے معنی وفات دینا ہے نہ اور کچھ۔کیونکہ اس مقام میں اس لفظ کی شرح میں کوئی روایت مخالف مروی نہیں۔نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کسی صحابی سے۔پس یہ امرمتعین ہو گیا کہ نزولِ مسیح سے مراد نزول بطور بروز ہے یعنی اسی اُمت میں سے کسی کا مسیح کے رنگ میں ظاہر ہونا ہے۔جیسا کہ حضرت الیاس علیہ السلام کے نزول کی شرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمائی تھی۔جو یہود اور نصاریٰ کے اتفاق سے وہ یہی شرح ہے کہ انہوں نے حضرت یحییٰ کو ایلیا یعنی الیاس آسمان سے اُترنے والا قرار دیا تھا۔سوخد ا تعالیٰ کے الہام سے میرا یہ دعویٰ ہے کہ وہ مسیح جو بروز کے طورپر غلبہ صلیب کے وقت میں کسر صلیب کے لئے اُترنے والا تھا، وہ میں ہی ہوں۔اس بنا پر میں مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری سے مباہلہ کرتا ہوں۔اگر مباہلہ کی میعاد کے اندر جو روزمباہلہ سے ایک برس ہو گی، میں کسی سخت اور ناقابلِ علاج بیماری میں جیسے جذام یا نابینائی یا فالج یا مرگی یا کوئی اسی قسم کی اور بھاری بیماری یا مصیبت میں مبتلا ہو گیا اور یا یہ کہ اس میعاد میں مولوی غلام دستگیر نہ فوت ہوئے نہ مجذوم ہوئے اور نہ نابینا اور نہ اور کوئی سخت مصیبت انہیں آئی تو میں تمام لوگوں کو گواہ کرتا ہوں کہ بغیر عذر و حیلہ ان کے ہاتھ پر توبہ ۱؎ النحل: ۱۲۹ ۲؎ المائدۃ: ۱۱۸ ۳؎ اٰلِ عمران: ۵۶