مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 458
مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری کے نام (تعارفی نوٹ) مولوی غلام دستگیر صاحب قصور کی مسجد کلاں کے امام تھے اور قصور میں ان کا بڑا اثر اور دخل تھا۔خاکسار عرفانی الکبیر کو مولوی غلام دستگیر صاحب کے خطرناک مخالفت کے سلسلہ میں ہی حافظ محمد یوسف ضلعدار، خان بہادر سید فتح علی شاہ ڈپٹی کلکٹر انہار کی تحریک پر اپنے ساتھ لے گئے۔میں اگرچہ اُمّی محض تھا مگر حق کی قوت اور فطرت میرے ساتھ تھی۔میں نے قصور میں عام لیکچر دئیے اور مولوی غلام دستگیر صاحب کے حلقہ کے بعض علماء سے بذریعہ مراسلات گفتگو کی اور خود مولوی غلام دستگیر صاحب سے بھی۔یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کا کرشمہ ہے کہ مجھے ان لوگوں سے گفتگو کرنے میں کبھی جھجک نہ ہوتی تھی اور نہ میں ان کی دستار فضیلت سے مرعوب ہوتا تھا۔غرض یہ سلسلہ چلتا رہا۔اس کے بعد جب حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے رسائل اربعہ شائع کئے جن میں علماء مکفّرین کو دعوتِ مباہلہ دی تو مولوی غلام دستگیر صاحب کو بھی مباہلہ کے لئے بلایا تھا۔مولوی غلام دستگیر صاحب نے اس مباہلہ کے اشتہار کا جواب دیا اور مباہلہ پر آمادگی کا اظہار کیا اور ایک خط لکھا۔حضرت اقدس نے اس خط کے جواب میں حکیم حضرت فضل الدین صاحب رضی اللہ عنہ کو ایک اشتہار کا مسودہ دے کر لاہور بھیجا اور یہ اشتہار چھپوا کر، شعبان کی ابتدائی تاریخوں غالباً ۳ یا ۴ تاریخ تھی، مولوی غلام دستگیر صاحب کو جا کر دیا گیا۔حکیم صاحب کے ساتھ جانے والوں میں جہاں تک میری یاد میری مدد کرتی ہے حضرت حکیم محمد حسین قریشی بھی تھے اور میںخود بھی تھا۔مولوی غلام دستگیر صاحب نے تو صرف ایک بہانہ تلاش کیا تھا۔مگر حضرت اقدس نے اس کا فوری جواب دے کر اشتہار دیا اور لاہور میں اسے تقسیم کیا گیا۔میرے مخطوطات میں وہ محفوظ تھا۔لیکن اس مسودے رقمہ کی تفصیلی روئداد بھی