مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 449 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 449

سے مباحثہ کا تقاضہ کیا توانہوں نے من وجہ آمادگی ظاہر کی مگر بالآخر مختلف حیلے پیش کئے اور آخر مقابلہ میں نہ آنا تھا نہ آئے۔جب حضرت اقدس نے مباہلہ کا اشتہار دیا تو اس میں بھی مولوی رشید احمد صاحب کو مخاطب کیا اور یہ بھی آپ نے اعلان کیا مگر مولوی رشید احمد صاحب نے نہ تو مباحثہ کیا اور نہ مباہلہ۔اس کے متعلق میں حضرت صاحبزادہ سراج الحق صاحب کا بیان یہاں درج کر دیتا ہوں تاکہ تاریخ سلسلہ میں یہ واقعات محفوظ ہو جاویںاور آنے والے مؤرخ کو آسانی ہو۔مجھے اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو میں عاقبت المکذبین میں تفصیل سے لکھوں گا۔وباللہ التوفیق۔اولاً میں صاحبزادہ صاحب کابیان متعلق مباحثہ و مباہلہ درج کرتا ہوں اور آخر میں وہ مکتوب جو حضرت اقدس نے مولوی رشید احمد صاحب کے نام لکھا تھا۔(عرفانی کبیر)  مولوی رشید احمد گنگوہی سے مباحثہ کی تحریک اور آخر اس کا انکار میں نے ایک بار حضرت اقدس علیہ السلام سے عرض کیا کہ یہ مولوی رہ گئے اور سب کی نظر مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی طرف لگ رہی ہے۔اگر حکم ہو تو مولوی رشید احمد صاحب کو لکھوں کہ وہ مباحث کے لئے آمادہ ہوں۔فرمایا اگر تمہارے لکھنے سے مولوی صاحب مباحثہ کیلئے آمادہ ہوں تو ضرور لکھ دو اور یہ لکھ دو کہ مرزا غلام احمد قادیانی آج کل لودھیانہ میں ہیں۔انہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعوٰی کیا ہے اور کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوگئی۔وہ اب نہیں آویں گے اور جس عیسیٰ کے اس اُمت میں آنے کی خبر تھی۔وہ میں ہوں۔اور مولوی تو مباحثہ نہیں کرتے ہیں، چونکہ آپ بہت سے مولویوں اور گروہ اہلِ سنت والجماعۃ کے پیشوا اور مقتدا مانے گئے ہیں اور کثیر جماعت کی آپ پر نظرہے۔آپ مرزا صاحب سے اس بارہ میں مباحثہ کر لیں۔چونکہ آپ کو محدّث اور صوفی ہونے کا بھی دعویٰ ہے اور ماسوا اس کے آپ مدعی الہام بھی ہیں۔مدعی الہام اس واسطہ کر کے کہ مولوی شاہ دین اور مولوی مشتاق احمد صاحب اور مولوی عبدالقادر صاحب نے گنگوہ مولوی رشید احمد صاحب