مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 448
مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے نام مولوی رشید احمد صاحب گنگوہ ضلع سہارنپور کے رہنے والے تھے اور گنگوہ کو ایک وقت تک اپنی علمی حالت کی وجہ سے شہرت حاصل تھی۔مولوی رشید احمد صاحب جناب مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی مرحوم کے ہم سبق تھے جبکہ دہلی کے اس مدرسہ میں تعلیم پاتے تھے جو ایسٹ انڈیا کمپنی نے حکومت کی جانب سے علوم عربیہ دینیہ کی تعلیم کے لئے جاری کیا تھا۔مولوی رشید احمد صاحب اپنے ہمعصر علماء میں ذہین سمجھے جاتے تھے۔فارغ التعلیم ہو کر انہوں نے سلسلہ بیعت بھی جاری کر لیا اور ان کے مریدین ان کو مجدّد مائۃ حاضرہ بھی کہتے رہے۔مجھے مولوی رشید احمد صاحب کا تعارف اس حد تک کرانا ہے جس حد تک ان کا تعلق سلسلہ عالیہ احمدیہ سے ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے الہام پاکر اپنا دعویٰ پیش کیا تو مولوی رشید احمد صاحب بھی جماعت مخالفین میں شریک ہوئے۔اس کے اسباب کچھ ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو ایک قاعدہ کلیہ علمائِ ظاہر کی مخالفت کا پیش کیا ہے۔گر علم خشک و کوری باطن نہ رہ زدے ہر عالم و فقیہ شدے ہم چو چاکرم! جب سلسلہ عالیہ احمدیہ میں حضرت پیر سراج الحق صاحب جمالی نعمانی جو حضرت چار قطب ہانسوی کی اولاد سے ہیں، داخل ہوئے تو مولوی رشیدا حمد صاحب کی مخالفت نمایاں ہوگئی۔اس لئے کہ حضرت پیر سراج الحق صاحب یہی نہیں کہ وہ ایک ممتاز مشائخ خاندان کے فرد تھے بلکہ اس لئے بھی پیر صاحب کے تعلقات اپنے صہری رشتہ میں مولوی رشید احمد صاحب کے ساتھ بھی تھے۔مولوی رشید احمد صاحب کو حضرت اقدس کے مقابلہ میں نکلنے کی جرأت نہ ہوئی، پر نہ ہوئی لیکن وہ اپنے مریدوں اور عوام میں مخالفت کرتے رہتے تھے۔صاحبزادہ صاحب نے جب مولوی رشید احمد صاحب