مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 447
مکتوب نمبر ۱۹ بنام عبدالحق غزنوی بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ از طرف عاجز عبداللہ الصمد غلام احمد عافاہ اللہ وایدہ میاں عبدالحق غزنوی کو واضح ہو کہ اب حسب درخواست آ پ کے جس میں آپ نے قطعی طور پر مجھ کو کافر اور دجّال لکھا ہے مباہلہ کی تاریخ مقرر ہو چکی ہے۔اور میرے امرتسر میں آنے کیلئے دو ہی غرضیں تھیں۔ایک عیسائیوں سے مباحثہ اور دوسرے آپ سے مباہلہ۔میں بعد استخارہ مسنونہ انہیں دو غرضوں کیلئے معہ اپنے قبائل کے آیا ہوں اور جماعت کثیر دوستوں کی جو میرے ساتھ کافر ٹھہرائی گئی ہے، ساتھ لایا ہوں اور اشتہارات شائع کر چکا ہوں اور متخلّفپر لعنت بھیج چکا ہوں۔اب جس کا جی چاہے لعنت سے حصہ لے۔میں تو حسب وعدہ میدانِ مباہلہ یعنی عید گاہ میںحاضر ہو جائوں گا۔خدا تعالیٰ کاذب اور کافر کو ہلاک کرے۔ ۱؎ یہ بھی واضح رہے کہ میں ۱۵؍ جون ۹۳ء کے مباحثہ میں نہیں جائوں گا۔بلکہ میری طرف سے اخویم حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب یا حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب بحث کیلئے جائیںگے۔ہاں یہ مجھے منظور ہے کہ مقام مباہلہ میں کوئی وعظ نہ کروں۔صرف یہ دعا ہو گی کہ ’’میں مسلمان، اللہ رسول کا متبع ہوں اگر میں اس قول میں جھوٹا ہوں توا للہ تعالیٰ میرے پر لعنت کرے‘‘ اور آپ کی طرف سے یہ دعا ہو گی کہ ’’یہ شخص درحقیقت کافر اور کذّاب اور دجّال اور مفتری ہے۔اگر میں اس قول میںجھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ میرے پر لعنت کرے‘‘ اور اگر یہ الفاظ میری دعا کے آپ کی نظر میں ناکافی ہوں (تو) جو آپ تقویٰ کی راہ سے لکھیں کہ دعا کے وقت یہ کہا جائے۔وہی لکھ دوں گا مگر اب ہرگز ہرگز تاریخ مباہلہ تبدیل نہیں ہو گی۔لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلیٰ مَنْ تَخَلَّفَ مِنَّا وَمَا حَضَرَ فِی ذَالِکَ التَّارِیْخِ وَالْیَومِ وَالْوَقْتِ۔وَالسَّلَامُ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفیٰ۔خاکسار٭ غلام احمد از امرتسر ۱؎ بنی اسرائیل: ۳۷ ٭ الفضل ۱۶؍ جولائی ۱۹۴۳ء ہفتم ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ(۲۴؍مئی ۱۸۹۳ء)