مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 442
مکتوبات احمد ۴۴۲ جلد اول مکتوب نمبر ۱۳ حضرت حجت اللہ کا خط بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مکرم مولوی محمد بشیر صاحب بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ عنایت نامہ جس کا لفظ لفظ اخلاص و تقویٰ سے بھرا ہے ہوا معلوم ہوتا ہے ۔ لودر ہیا نہ میں مجھ کو ملا مگر چونکہ میں اتفا قا ضلع علیگڑھ کی طرف چلا گیا تھا اور پھر واپس آ کر ۱۹ را پریل ۸۹ ء کو قادیان کی طرف چلا آیا اس لئے جواب لکھنے سے مجبور رہا۔ جو کچھ آپ نے لکھا ہے بالکل سچ لکھا ہے جس سے خلوص اور طلب حق کی بُو آتی ہے۔ اللہ جل شانہ نے قرآن مجید میں اولیاء اللہ کی پانچ علامتیں لکھی ہیں ۔ جب تک وہ پانچوں علامتیں کسی میں نہ پائی جائیں تب تک وہ ولی اللہ نہیں ہو سکتا اور قبل اس کے جوکسی کی ولایت کو شناخت کیا جائے اُس سے بیعت کرنا جائز نہیں لیکن اولیاء اللہ کو شناخت کرنا ہر ایک آنکھ کا کام نہیں ۔اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں کہ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ کے کچھ شک نہیں کہ اولیاء اللہ میں خوارق و آیات بینات پائی جاتی ہیں۔ لیکن جب تک خدا تعالیٰ نہ چاہے وہ موجب ہدایت نہیں ہو سکتے ۔ ہاں جو شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی ولی کے خوارق و آیات پر اطلاع پاوے اُس پر لازم ہے کہ دو طریقوں میں سے ایک طریق اختیار کرے۔ (۱) یا یہ کہ نہایت درجہ کا دوست بن جاوے۔ (۲) یا یہ کہ نہایت درجہ کا دشمن بن جاوے۔ کیونکہ جب تک دوستی یا دشمنی انتہا تک نہ پہنچے تب تک اس قوم کے خواص معلوم نہیں ہو سکتے ۔ آپ جو طالب صادق ہیں امید ہے کہ دوستی میں ترقی کریں گے خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور اپنی طرف سے قوت و بصیرت بخشے ۔ آمین ثم آمین * والسلام علی من اتبع الهدی ۲۴ را پریل ۸۹ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ ل الاعراف : ١٩٩ الحکم ۳۰ جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۴