مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 422 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 422

خدائے تعالیٰ جانتا ہے بلکہ یقینا اس پیشگوئی کی اصل حقیقت ہمیں معلوم ہو چکی ہے۔اگر یہ لوگ اس قدر اقرار کریں تو پھر کچھ ضرورت نہیں کہ علماء کا مشورہ اس میں لیا جائے۔وہ مشورہ نقصان علم کی وجہ سے طلب نہیں کیا گیا صرف اتمام حجت کی غرض سے طلب کیا گیا ہے۔سو اگر یہ مدعیان ایسا اقرار کریں کہ جو اوپر بیان ہو چکا ہے تو پھر کچھ حاجت نہیں کہ علماء سے فتویٰ پوچھا جاوے۔یہ تو ظاہر ہے کہ جو شخص آپ ہی یقین نہیں کرتا وہ مباہلہ کس بنا پر کرنا چاہتا ہے؟ مباہل کا منصب یہ ہے کہ اپنے دعویٰ میں یقین ظاہر کرے۔صرف ظن اور شبہ پر بنا نہ ہو۔مباہل کو یہ کہنا پڑتا ہے کہ جو کچھ اس امر کے بارے میں خدائے تعالیٰ کو معلوم ہے۔وہی مجھ کو یقینی طور پر معلوم ہو گیا ہے۔تب مباہلہ کی بنا پید ا ہوتی ہے۔پھر یہ بات بھی ہے کہ مباہلہ سے پہلے شخص مبلغ کا بھی سن لینا ضروری امر ہے۔یعنی جو شخص خدا ئے تعالیٰ سے مامور ہوکر آیا ہے اسے لازم ہے کہ اوّل دلائل بیّنہ سے اشخاص منکرین کو اپنے دعوے کی صداقت سمجھا وے اور اپنے صدق کی علامتیں ان پر ظاہر کرے۔پھر اگر اس کے بیانات کو سن کر اشخاص منکرین باز نہ آویں اورکہیں کہ ہم یقینا جانتے ہیں کہ ُتو مفتری ہے تو آخر الحیل مباہلہ ہے۔یہ نہیں کہ ابھی نہ کچھ سمجھا نہ بوجھا نہ کچھ سنا پہلے مباہلہ ہی لے بیٹھے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مباہلہ کی درخواست اس وقت کی تھی کہ جب کئی برس قرآن شریف نازل ہو کر کامل طورپر تبلیغ ہو چکی تھی۔یہ عاجز کسی طرح نہیں چاہتا۔صرف یہ چاہتا ہے کہ ایک مجلس علماء کی جمع ہو او ر ان میں وہ لوگ بھی جمع ہوں جو مباہلہ کی درخواست کرتے ہیں۔پہلے یہ عاجز انبیاء کے طریق پر شرط نصیحت بجا لائے اورصاف صاف بیان سے اپنا حق ہونا ظاہر کر لے جب اس وعظ سے فراغت ہو جائے تو درخواست کنندہ مباہلہ اُٹھ کر یہ کہے کہ وعظ میں نے سن لیا۔مگر میں اب بھی یقینا جانتا ہوں کہ یہ شخص کاذب اور مفتری ہے اور اس یقین میں شک و شبہ کو راہ نہیں بلکہ رؤیت کی طرح قطعی ہے۔ایسا ہی مجھے اس بات پر بھی یقین ہے کہ جو کچھ میں نے سمجھا ہے وہ ایسا شک و شبہ سے منزہ ہے کہ جیسے رؤیت، تب اس کے بعد مباہلہ شروع ہو۔مباہلہ سے پہلے کسی قدر مناظرہ ضروری ہوتا ہے تا حجت پوری ہو جائے۔کبھی سنا نہیں گیا کہ کسی نبی نے ابھی تبلیغ نہیں کی اور مباہلہ… ہی شروع ہو گیا۔غرض اس عاجز کو مباہلہ سے ہرگز انکار نہیں مگر اسی طریق سے جو