مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 418
مکتوبات احمد ۴۱۸ جلد اول کے طریق استفسار کو سعادت کی نشانی قرار دیا اور لکھا کہ میری نظر میں طلب ثبوت اور ” انکشاف حق کا طریقہ کوئی جائز اور ناگوار طریقہ نہیں بلکہ سعیدوں کی یہی نشانی ہے کہ وہ ورطۂ مذبذبات سے نجات پانے کے لئے حل مشکلات چاہتے ہیں ۔ لہذا یہ عاجز آپ کے اس طلب ثبوت سے ناخوش نہیں ہوا بلکہ نہایت خوش ہے کہ آپ میں سعادت کی وہ علامتیں دیکھتا ہوں جس سے آپ کی نسبت عرفانی ترقیات کی امید بڑھتی ہے۔“ اس وقت یہ پیشگوئی تھی اور حقیقت ثابتہ ہو گئی ۔ اس طرح یہ خط میری زندگی کے نشیب وفراز میں ایک موڑ کا مقام ہے اور مجھے بہت ہی عزیز ہے۔ اس خط کی ایک نقل حضرت حکیم الامۃ خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ کو بھی آپ نے اپنے ایک مکتوب کے ساتھ بھیجی تھی ۔ وہ مکتوب حضرت خلیفہ اول کے نام کے مکتوب میں کسی وجہ سے شائع نہ ہو سکا۔ ۹ فروری ۱۸۹۱ء کو حضرت اقدس نے جو مکتوب لکھا تھا اس میں عبد الحق غزنوی کے اشتہار کا ذکر ہے اور آپ نے یہ خیال بھی ظاہر فرمایا کہ در حقیقت یہ اشتہار مولوی عبدالجبار صاحب کی طرف سے معلوم ہوتے ہیں اور اس مکتوب میں بھی حضرت نے اشارہ کیا ہے۔ مولوی عبد الجبار صاحب نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ چونکہ حضرت حکیم الامت کے نام کا مکتوب رہ گیا ہے اس لئے اسے بھی یہاں درج کر دیتا ہوں ۔ اس خط پر جو نوٹ لکھا گیا ہے وہ حضرت مولوی عبدالکریم صافی رضی اللہ عنہ کا لکھا ہوا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں ۔ اب ہم ایک خط چھاپتے ہیں جو حضرت مرزا صاحب نے مولانا مولوی نورالدین صاحب کے نام لکھا ہے۔ اس خط کو پڑھتے وقت ہمیں قرآن حمید کی وہ آیت یاد آئی اور جناب ہادی کامل علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کے اثبات میں ایک بڑی زبردست خطابی دلیل پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے ۔ قُلْ هُذِهِ سَبِيْلِي ادْعُوا إِلَى اللهِ عَلَى بَصِيرَةِ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ان کو کہہ دو کہ میں تمہیں اللہ کی طرف جو بلاتا ہوں تو میں اپنے مشن کی صداقت کی نسبت مذبذب و متر د د نہیں ہوں ۔ بخلاف اس کے مجھ کو کامل وثوق ہے، پوری بصیرت ہے کہ میں راست باز ہوں اور اس لئے بالیقین کامیاب ہونے والا ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل سکینہ صادق ہیں اور مذبذب دلی مضطرب متعمد کا ذب کے لہجے اور ا يوسف : ١٠٩