مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 417 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 417

میرا علم ومعرفت نہایت ہی کمزور تھی۔میں نے مضمون سن کر اظہار افسوس کیا اور جو ناداں صوفیوں سے سنا ہو اتھا کہ سلوک کے راستہ میں بعض وقت کوئی ٹھوکر لگ جاتی ہے اور ایسے بزرگ کچھ دعویٰ کر دیتے ہیں، میںنے بھی یہی کہا کہ حضرت کو نعوذ باللہ ٹھوکر لگی ہے۔اس سے زیادہ میں نے کچھ نہ کہا اور نہ حضرت کے متعلق کوئی شبہ پیدا ہوا۔بات آئی گئی۔کچھ دنوں کے بعد مجھے رسالہ فتح اسلام مل گیا۔میں نے اسے تین چار مرتبہ پڑھا اور مجھے شرح صدر ہو گیا۔میںنے رسالہ جیب میںرکھا اور دفتر جا کر ان ہر سہ کی موجودگی میں ان کو گواہ کر کے کہا کہ میرا خیال غلط تھا۔حضرت مرزا صاحب واقعی مسیح موعود ہیں اور حضرت مسیح ابن مریم فوت ہو گئے اور رسالہ فتح اسلام سے بعض پیریگراف سنائے۔اس پر منشی محبوب عالم صاحب نے کہا تم بڑے متلوّن مزاج ہو۔چند روز پیشتر وہ خیال ظاہر کیا اور آج ان کے دعویٰ کی تصدیق کرتے ہو۔میں نے کہا آپ نے تلوّن کی حقیقت ہی نہیں سمجھی۔اپنی غلطی سے رجوع کر کے صداقت کو قبول کرنا تو اعلیٰ درجہ کی خوبی ہے۔اس پر وہ بحث ختم ہو گئی اور میں نے حضرت کو اپنا یہ سارا قصہ لکھ دیا۔اللہ تعالیٰ نے منشی الہ دتا صاحب کو تو سلسلہ میں داخل کر دیا۔سید احمدناول نویس تھے ان کو کچھ توجہ ہی نہ ہوئی اور منشی محبوب عالم صاحب مخالفت بھی کرتے رہے اور اس کے بعد خاکسار عرفانی کبیرکو تو علی الاعلان اس پیغام کو لاہور کے بازاروں میں پہنچانے کی سعادت نصیب ہوئی اور حضرت اقدس کے سفر لاہور کے ایام میں مخالفین سے ماریں بھی کھائیں۔والحمد للّٰہ علٰی ذٰلک۔یہ واقعہ میں نے اس اشتہار کے سلسلہ میں لکھ دینا ضروری سمجھا۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب ؓ کا تعلق حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ کی زندگی کو بھی عبدالحق کے اشتہار مباہلہ سے ایک تعلق ہے۔آپ نے اس سلسلہ میں حضرت کو ایک خط لکھا جس میں مزید انکشاف بذریعہ سوالات کیا گیا تھا۔حضرت اقدس نے حضرت نواب کو جو مکتوب گرامی لکھا وہ آپ کے مکتوبات میں چوتھے ۱؎ نمبر پر درج ہے۔جس میں حضرت اقدس نے نواب صاحب ۱؎ حضرت نواب صاحب کے نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ مکتوب اس خط کے آخر میں دیا جاتا ہے۔