مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 414
تو آپ کو اقرار کرنا پڑے (کہ) ہاں بڑے زور سے اقرار کرتا ہوں کہ ان ضروری امور سے تمام بائیبل خالی ہے تو پھر ہم بائیبل کی تہیدستی کا شکوہ کہاں لے جائیں اور کس کے پاس جاکر روئیں۔سچ تو یہ ہے کہ انجیل اور توریت کی حالت کی نسبت یہ آیت نہایت موزوں معلوم ہوتی ہے۔ ۱؎۔انہوں نے اپنی قوم کو جن کے ہاتھ میں صدہا سال سے یہ کتابیں ہیں، کیا فائدہ پہنچایا ہے جو آپ کو بھی پہنچائیں گی۔جن کے گندہ اور غیر مہذب بیانات کی بڑے فاضل انگریز جان پورٹ ولائل جیسے قائل ہوگئے ہیں۔اب آپ نے ان میں کیا دیکھ لیا کہ آپ قائل نہیں ہوتے۔خدا تعالیٰ رحم کرے۔رَبِّ اغْفِرْ رَبِّ ارْحَمْ وَلاَ تَھْدِی نَفْسٌ اِلاَّ بِفَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ وَ تَوْفِیْقِکَ وَالسَّــلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰ ی۔٭ خاکسار مورخہ ۳۰؍ ستمبر ۱۸۸۹ء غلام احمد ٭…٭…٭ ۱؎ البقرۃ: ۲۲۰ ٭ الفضل ۸؍ جنوری ۱۹۴۳ء صفحہ۳