مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 413
مکتوب نمبر ۸ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ دوست میرے دوست جناب مولوی امام الدین صاحب سلّمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنائت نامہ پہنچا۔میں افسوس سے لکھتا ہوں کہ بباعث بعض موسمی بیماریوں کے آپ کے خط کا جواب لکھنے سے قاصر ہوں۔دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کو خوش رکھے اور بوجہ ضعفِ بشریت ایک غلطی جو آپ کے خیال پر غالب آرہی ہے، اس کو رفع دفع فرمادے کہ ہر ایک ہدایت اسی کی طرف سے ہے۔اور انشاء اللہ میرا ارادہ ہے کہ براہین احمدیہ کے کسی محل پر آپ کا جواب الجواب لکھوں۔نہ بحث کی غرض سے بلکہ اس غرض سے کہ ہادیٔ مطلق اس کے ذریعہ سے آپ کو رہنمائی کرے۔مگر میرے نزدیک اس سے پہلے مناسب ہے کہ آپ بائیبل کے ان مقامات کی صاف طور پر تشریح کردیںجن سے نہ صرف یہ بات قطعاً معلوم ہوتی ہے (کہ) وہ قصص و احکام خدا تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کسی عقلمند و متقی و دیندار کابھی وہ کلام نہیں ہوسکتا۔بائیبل میں بعض بیانات عقل و طبعی کے برخلاف ہیںاور بعض خدا تعالیٰ کے تقدس اور اس کی پاک تعلیم کے برخلاف اوربعض اس کے انبیاء کی شان کے برخلاف اور بعض ایسے امور ہیں جو حال کی تحقیقاتوں سے جھوٹے ثابت ہوگئے۔مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن شریف اجمالی طور پر تمام امور ضروریہ علمی و عملی کا جامع اور تمام معارف و حقائق پر بطور ایجاز و اجمال مشتمل ہے اور خدا تعالیٰ نے تفصیل کا حوالہ اپنے رسول کی طرف کردیا ہے۔جہاں فرمایا ہے کہ جو کچھ رسول دے وہ لے لو اور جس چیز سے منع کرے اس سے باز آجاؤ اور اگر فرض کے طور پر یہ خیال کیا جاوے کہ بغیر بائیبل کے تکمیل قرآن شریف نہیں ہوسکتی اوراگر بائیبل کو قرآن شریف کے ساتھ پڑھا جائے تو پھر کوئی حکم اور دینی صداقت باہر نہیں رہے گی تو یہ بھی خیال خام اور گمان باطل ہے اور اگر آپ کو سیر احادیث نبویہ ہو تو کس قدر صدہا جزئیات متعلق حقوق عباد و معاملات و حقوق باری عزاسمہ وغیرہ اس میں مندرج ہیں اور پھر کس قدر فقہا نے ان جزئیات کی تشریح کرنے کے وقت اجتہاد سے کام لیا ہے اور کس قدر مسائل پیدا ہوگئے