مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 411

کایہی ارادہ تھا اور قرآن شریف درحقیقت ایک ناقص کتاب ہے اور اس کی تکمیل اس تمام مجموعہ کتب پر موقوف تھی کہ جو حضرت آدم سے لے کر تمام متفرق قوموں کے نبیوں پر نازل ہوتی رہیں تو چاہئے تھا کہ خدا تعالیٰ وہ تمام کتابیں روئے زمین کے مسلمانوں کے لئے میسر کر دیتا۔یا قرآن شریف میں ان کے نام بتلا دیتا۔مگر اس نے تو بجز حضرت موسیٰ کی کتاب توریت اور حضرت دائود کی کتاب زبور اور صحف ابراہیم اور انجیل کے اور کسی کتاب کا نام بھی نہیں بتلایا اورجن کتابوں کا نام بتلایا اس کے ساتھ یہ دل توڑنے والی خبر بھی دے دی کہ وہ تمام کتابیں محرف اور مبدّل ہیں۔غرض (اگر) آپ کا یہ دعویٰ صحیح ہے تو اوّل وہ دنیا کی تمام کتابیں آپ جمع کر کے دکھلاویں جن کے شمول وا لحاق پر قرآن شریف کی تکمیل موقوف ہے اور اگر وہ نہ ہوں تو قرآن شریف ناقص رہ جاتا ہے۔میری دانست میں آپ نے ایک ایسا فضول اور بے بنیاد دعویٰ اپنے ذمہ لیا ہے جس کا ثبوت آپ کیلئے محال اور ممتنع ہے۔بینات قرآنی سے آپ کیوں بھاگتے ہیں۔کیا کبھی قرآن شریف کی تلاوت کا بھی اتفاق نہیں ہوا۔اللہ شانہٗ فرماتا ہے  ۱؎ سوجس حالت میں اللہ جل شانہٗ آ پ فرماتا ہے کہ تمام پاک صداقتیں جو پہلی کتابوں میں تھیںاس کتاب میں درج ہیں تو آپ ایسی جامع کتاب کو کیوں نظر تحقیر سے دیکھتے ہیں؟ آپ کے لئے یہ طریق بہتر ہے کہ چند پاک صداقتیں کسی پہلی کتاب کی جو آپ کے گمان میں قرآن شریف میں نہیں پائی جاتیں اس عاجز کے سامنے پیش کریں۔پھر اگر یہ عاجز قرآن شریف (میں) وہ صداقتیں دکھانے میں قاصر رہا تو آپ کا دعویٰ خود ثابت ہو جائے گا کہ ایسی ضروری اور پاک صداقتیں قرآن شریف میں نہ پائی گئیں ورنہ آپ کو اس غایت درجہ کی بے ادبی سے توبہ کرنی چاہئے کہ جس کتاب کا نام اللہ جل شانہٗ نے جامع الکتب اور نورِ مبین رکھا ہے۔آپ اس کتاب کو ناقص ٹھہراتے ہیں۔آپ کو اب تک یہ بھی خبر نہیں کہ خود یہودیوں اور عیسائیوں وغیرہ اقوام کے اقرار سے ثابت ہے کہ پہلی کتابیں جو دنیا کے لوگوں پر نازل ہوئی تھیں کچھ توان میں سے بتمام ہا نابود ہوگئیں اور کچھ تحریف کی گئیں اور کچھ ناقص رہ ۱؎ البیّنۃ: ۳،۴