مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 410 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 410

مکتوب نمبر ۷ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ مکرمی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ عنایت نامہ پہنچا۔میری نسبت جوآںمکرم خود ستائی واستکبار یاکسی بے جا ادّعا کاظن رکھتے ہیں۔اس ظن کی بنا صرف بے خبری وناواقفیت پر ہے۔بہتوں نے نبیوں کی نسبت بھی ایسے ہی ظن کئے۔پھر جب کسی وقت صحبت میسر ہوئی تو جس کو حق کے ساتھ مناسبت تھی۔خدا تعالیٰ نے اس کے وساوس دور کر دیئے۔سو اگر آپ صحبت سے ہی دور رہیں اور ملاقات سے کَارِہ توپھر اس بیماری کا کیوں کر علاج ہو۔دعا بھی ان ہی لوگوں کے حق میںقبول ہوتی ہے کہ جو اپنے تعصب اور سوئِ ظن کو کچھ کم کرتے ہیں۔جن لوگوںکوانکار میںغایت درجہ غلو تھا ان کو اولوالعزم رسولوں کی توجہ اوردعا بھی کچھ سُود مند نہ ہوئی۔اور جو آپ اپنے وساوس کے دور کرنے کے لئے مجھے اپنے پاس بُلاتے ہیں، میرے گمان میں اس آرزو کی بنیاد اخلاص پر نہیں۔کیونکہ جس حالت میں آپ میری ملاقات سے بھی کَارِہ ہیں تو آپ کو میری ملاقات کچھ فائدہ نہیں دے گی۔میرے نزدیک یہ بہتر ہے کہ آپ ایک رسالہ مستقلہ اپنی رائے اور خیال کی تائید میں چھپوا کر میرے پاس بھیج دیں۔مگر رسالہ ایسا ہونا چاہیے جس میں وہ سب دلائل مندرج ہوں۔جن پر بہ تائید اپنے دعوٰی کے آپ زور دیتے ہیں۔اس طور کی بحث سے پبلک کو بہت فائدہ متصوّرہے اور ہر ایک منصف کو بآسانی رائے نکالنے کا موقع مل سکتا ہے۔آپ کی رائے میں قرآن شریف پہلی کتابوں کا اس طور سے مُتمِّم و مُکمِّل ہے کہ جو کچھ پہلی تحریرات سے کچھ زیادہ بیان کرنا قرین مصلحت تھا۔صرف وہ امر زائد یا کسی قدر مفصل قرآن شریف نے بیان کر دیا ہے۔مگر دوسری ہزار ہا صداقتیں کہ جو اچھی طرح پہلی کتابوں میں بیان ہو چکی تھیں۔وہ قرآن شریف میں پائی نہیں جاتیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہی ارادہ کیا ہے کہ ان کا اعادہ قرآ ن شریف میں ضروری نہیں۔ان کے لئے پہلی کتابوں کی تلاوت لازم پکڑنی چاہئے۔ورنہ ایمان اور علم اور عمل ناقص رہے گا۔ا ب ایک دانشمند سوچ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ