مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 407
مکتوبات احمد ۴۰۷ جلد اول مکتوب نمبر ۶ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم جناب حاجی ولی اللہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ وب عنایت نامہ پہنچا۔ جو کچھ آں مخدوم نے لکھا ہے وہ بہت مناسب ہے ۔ اس عاجز نے پہلے ہی سے یہ تجویز قرار دے رکھی ہے کہ کتاب براہین احمد یہ بجر متن عبارت و دلائل معقولی اور کچھ درج نہ ہو۔ اسی وجہ سے الہامات کے بارے میں یعنی پیشگوئیوں میں ( جو ) ہنوز وقوع میں نہیں آئیں ۔ ایک مستقل رسالہ لکھا گیا ہے جس کا نام سراج منیر ہے ۔ جن لوگوں کی ایسی باتوں سے طبیعت کچھ مناسبت نہیں رکھتی ہوگی وہ اس رسالہ کو پڑھیں گے اور جن لوگوں کی طبیعت میں مناسبت نہیں ہو گی ان کو دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوگا ۔ سو وہ ملامت طبع اور تکدر خاطر سے محفوظ رہیں گے۔ اب حصہ پنجم کتاب کے چھپنے میں صرف یہ توقف ہے کہ رسالہ سراج منیر تیار ہے۔ رسالہ سرمہ چشم آریہ کہ وہ بھی تیار اور مرتب ہے۔ اکونٹنٹ ڈیرہ غازیخان سے پانسور و پیہ قرض لے کر کاغذ خریدا گیا ہے۔ اب تین چار روز تک یہ چھپنے شروع ہو جائیں گے۔ شاید ان کی ایک ایک روپیہ قیمت ہوگی اور قیمت وصول ہو کر حصہ پنجم کتاب کے لئے کام آئے گی۔ اله سرمہ چشم آریہ، آریوں اور نیچریوں کے رڈ میں لکھا گیا ہے ۔ بنیاد اس رسالہ کی وہ بحث ہے جو ہوشیار پور کے مقام پر آریوں کے ساتھ ہوئی تھی ۔ رسالہ سراج منیر شاید مقبول طبع مبارک نہ ہوگا اس لئے اس کی نسبت لکھنا فضول ہے۔ لیکن رسالہ سرمہ چشم آریہ میں الہامات کا ذکر نہیں ۔ الا ماشاء اللہ ۔ سو اگر آں مخدوم خالصاً للہ ثواب کی نیت سے اور محض خوشنودی باری جل شانہ کی غرض سے کی فروخت کرانے میں جدو جہد کریں یہ تو اس سلسلہ کی سعادتوں میں جس کی عظمت کا علم عالم الغیب کو معلوم ہے آپ بھی داخل ہو جائیں اور آپ بفضلہ تعالیٰ اولوالعزم ہیں ۔ اگر متوجہ ہوں تو اس صورت میں کتاب کے لئے بآسانی ا نقل مطابق اصل ۔ غالباً سہو کتابت سے ”نہیں“‘ زائد لکھا گیا ہے ۔ ئے گی ۔ رسالہ نقل مطابق اصل ۔ غالباً سہو کتابت سے ” کی“ لکھا گے " لکھا گیا ہے ۔ ”کتاب“ ہونا چاہیے۔