مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 394 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 394

مکتوب نمبر ۳ مخدومی مکرمی اخویم حاجی صاحب سلّمہُ اللہ تعالیٰ۔بعد سلام مسنون۔آج مدت کے بعد عنایت نامہ پہنچا۔آپ نے جس قدر اپنے عنایت نامے میں اس حقیر عباد اللہ کی نسبت اپنے بزرگانہ ارشادات سے بد نیتی، ناراستی اور خراب باطنی اور وعدہ شکنی اورانحراف از کعبہ حقیقت وغیرہ وغیرہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔میں ان سے ناراض نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اوّل توع ’’ہرچہ ازدوست مے رسد نیکوست‘‘۔ماسوا اس کے اگر خداوند کریم ورحیم ایسا ہی برُا انجام کرے جیسا کہ آپ نے سمجھا ہے تو میں اس سے بدتر ہوں اور درشت تر الفاظ کا مستحق ہوں۔رہی یہ بات کہ میں نے آپ سے کوئی وعدہ خلافی کی ہے یا میں کسی عہد شکنی کامرتکب ہوا ہوں تو اس وہم کا جواب زیادہ تر توجہ سے خود آپ ہی معلوم کرسکتے ہیں۔جس روز چھپے ہوئے پردے کھلیں گے اور جس روز ۱؎ کا عملدرآمد ہو گااور بہت سے بدظن اپنی جانوں کو رویا کریں گے۔اس روز کا اندیشہ ہر ایک جلدباز کو لازم ہے۔یہ سچ ہے کہ براہین احمدیہ کی طبع میں میری امید اور اندازے سے زیادہ توقف ہو گیا مگر اس توقف کا نام عہد شکنی نہیں۔میں فی الحقیقت مامور ہوں اور درمیانی کارروائیاں جو الٰہی مصلحت نے پیش کر دیں دراصل وہی توقف کا موجب ہو گئیں۔جن لوگوں کو دین کی غمخواری نہیں وہ کیا جانتے ہیں کہ اس عرصہ میںکیا کیا عمدہ کام اس براہین کی تکمیل کے لئے ہوئے اور خدا تعالیٰ نے اِتمام حجت کے لئے کیا کیا سامان میسر کئے۔آپ نے سنا ہو گا کہ قرآن شریف کئی برسوں میںنازل ہوا تھا۔کیا وہ ایک دن نازل نہیں ہو سکتا تھا۔آپ کو اگر معلوم نہ ہو تو کسی باخبر سے دریافت کرسکتے ہیں کہ اس عرصہ میں یہ عاجز بیکار رہا یا بڑا بھاری سامان اتمامِ حجت کا جمع کرتا رہا۔تیس ۳۰ہزار سے زیادہ اشتہارات اُردو انگریزی میں تقسیم ہوئے۔بیس ۲۰ ہزار سے زیادہ خطوط میں نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر مختلف مقامات میں روانہ کئے۔ایک عقلمند اندازہ کرسکتا ہے کہ علاوہ جدّو ُجہد اور محنت اور عرق ریزی کے کیا کچھ مصارف ان ۱؎ العٰدیٰت: ۱۱