مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 393
کی حفاظت کریں گے اور اپنی طرف سے ایسے لوگوں کو بھیجتے رہیں گے کہ جو کمالاتِ نبوت پا کر اور حق جَلَّ و عُلٰی اور اس کے بندوں میں واسطہ بن کر راہِ راست کی لوگوں کو ہدایت کریں گے اور حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ جو شخص اپنے وقت کے امام کو شناخت نہیں کرتا اس کی موت جاہلوں کی سی موت ہوگی اور حقانی معرفت اور حقیقی ایمان سے بے نصیب رہے گا۔اب آپ ناراض نہ ہوں۔آپ کے دونوں خطوں سے سخت بدگمانی کی بُو آتی ہے جس حالت میں مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہر ایک صدی کے سر پر مجدد کے آنے کی خبر دی ہے تو آپ قطعاً اس خبر کا انکار کر کے کس طرح بھاگ سکتے ہیں یا کیونکر آپ اس بات کو چھپا سکتے ہیں کہ بِلاشُبہ صدی کے سر پر ایک مجدد کا آنا ضروری ہے۔جب تک آپ کو اس بات کی اطلاع نہ دی جاتی کہ خبر کا فلاں کس مصداق ہے تب تک آپ کا یہ قول ہونا چاہیے تھا کہ ہم بِلاشُبہ ایمان لاتے ہیں کہ برطبق پیشگوئی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوئی مجدد صدی کے سر پر پیدا ہو گیا ہے جس کی ہم کو آج تک خبر نہیں اور جب آپ کو ایک شخص نے اطلاع دے دی کہ وہ مجدد میں ہوں۔اور بہت سے انوار و برکات ظاہر کرنے سے خدا تعالیٰ نے اس کی مجددیت ثابت کی۔تو پھر آپ کو اگر کچھ شک تھا تو آپ جیفۂِ دنیا سے چند روز فراغت کر کے اس کی خدمت میں دوڑتے اور اس سے تسلّی اور تشفی کر لیتے۔اے عزیزو! دنیا روزے چند آخر کار باخداوند،تعالیٰ کی جناب میں کسی کا تکبر پیش نہیں جاتا۔جیسے رسول کے انکار سے کفر لازم آتا ہے ایسا ہی امامِ وقت کے انکار سے اس قدر ضعیف ایمان ہو جاتا ہے کہ آخر سلبِ ایمان تک نوبت پہنچتی ہے۔نکمی بحثیں اس جگہ پیش نہیں جاتیں۔ایمان حقیقی اور یقین کامل وہ نعمت ہے کہ بجز التزام ۱؎ کبھی ہاتھ نہیں آتا۔اور لاف و گزاف اِس جناب میں پیش نہیں جاتی اور اگر اس عاجز نے کسی مدد کے لئے کہا تو برعایت ظاہر اسباب کہا۔ورنہ یہ عاجز مخلوق کو ہیچ اور لاشئے سمجھتا ہے۔۲؎ خداکرے کہ آپ ان خیالات سے توبہ کریں کہ مرگ نزدیک ہے اور اگر دل میں وساوس ہوں تو بکثرت ملاقات کریں۔تا اگر خدا چاہے تو ایمان سلامت لے جائیں۔فَتُوْبُوْا ثُمَّ تُوْبُوْا۔ثُمَّ توبُوا۔والسلام علی من اتبع الھدٰی۔دو اشتہار بھیجے جاتے ہیں ان کو غور سے پڑھیں٭ غلام احمد عفی عنہ ۱؎ التوبۃ: ۱۱۹ ۲؎ المنافقون: ۸ ٭ الحکم ۲۸ جولائی ۱۹۳۸ء صفحہ ۹ دسمبر ۱۸۸۴ء