مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 22

مکتوبات احمد ۲۲ جلد اول اب بعد اس کے جس امر میں آپ بحث کر سکتے ہیں اور جس بحث کا آپ کو حق پہنچتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے برخلاف ہمارے اس استقرا کے کوئی نظیر دے کر ہمارے اس استقرا کو توڑ دیں یعنی از روئے وضع مستقیم مناظرہ کے جواب آپ کا صرف اس امر میں محصور ہے کہ اگر آپ کی نظر میں ہمارا استقرا غیر صحیح ہے تو آپ بغرض ابطال ہمارے اس استقرا کے کوئی ایسا فرد کامل ارباب نظر اور فکر اور حدس میں سے پیش کریں کہ جس کی تمام راؤں اور فیصلوں اور ججمنٹوں میں کوئی نقص نکالنا ہرگز ممکن نہ ہو اور زبان اور قلم اُس کی سہو و خطا سے بالکل معصوم ہو ۔ تا ہم بھی تو دیکھیں کہ وہ در حقیقت ایسا ہی معصوم ہے یا کیا حال ہے؟ اگر معصوم نکلے گا تو بیشک آپ سچے اور ہم جھوٹے ، ورنہ صاف ظاہر ہے کہ جس حالت میں نہ خود انسان اپنے علم اور واقفیت سے غلطی سے بچ سکے اور نہ خدا ( جو رحیم و کریم اور ہر ایک سہو و خطا سے مبرا اور ہر امر کی اصل حقیقت سے واقف ہے ) بذریعہ اپنے سچے الہام کے اپنے بندوں کی مدد کرے تو پھر ہم عاجز بندے کیونکر ظلمات جہل اور خطا سے باہر آویں اور کیونکر آفات شک و شبہ سے نجات پائیں ۔ لہذا میں مستحکم رائے سے یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ مقتضائے حکمت اور رحمت اور بندہ پروری اُس قادر مطلق کا یہی ہے کہ وقتاً فوقتاً جب مصلحت دیکھے ایسے لوگوں کو پیدا کرتا رہے کہ عقائد حقہ کے جاننے اور اخلاق صحیحہ کے معلوم کرنے میں خدا کی طرف سے الہام پائیں اور تفہیم تعلیم کا ملکہ وہی رکھیں تا کہ نفوس بشریہ، کہ سچی ہدایت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ، اپنی سعادت مطلوبہ سے محروم نہ رہیں ۔ ۲۱ رمتی ۱۸۷۹ء جواب از پنڈت شو نرائن راقم آپ کا نیازمند غلام احمد عفی عنہ مکرمی جناب مرزا صاحب! عنایت نامہ آپ کا بمع مضمون پہنچا۔ آپ نے الہام کی تعریف اور اس کی ضرورت کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، افسوس ہے کہ میں اس سے اتفاق نہیں کر سکتا ہوں ۔ میرے اتفاق نہ کرنے کی جو جو وجوہات ہیں اُنہیں ذیل میں رقم کرتا ہوں ۔ Judgements