مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 21

مکتوبات احمد ۲۱ مکتوب نمبر ۳ جلد اول دیو سماج کے بانی مبانی پنڈت شو نرائن صاحب سینتانند اگنی ہوتری سے خط و کتابت الہام ایک القاء غیبی ہے کہ جس کا حصول کسی طرح کی سوچ اور تر ڈراور تفکر اور تدبر پر موقوف نہیں ہوتا اور ایک واضح اور منکشف احساس سے کہ جیسے سامع کو متکلم سے یا مضروب کو ضارب سے یا ملموس کو لامس سے ہو، محسوس ہوتا ہے اور اس سے نفس کو مثل حرکات فکریہ کے کوئی الم روحانی نہیں پہنچتا بلکہ جیسے عاشق اپنے معشوق کی رویت سے بلا تکلف انشراح اور انبساط پاتا ہے ویسا ہی روح کو الہام سے ایک از لی اور قدیمی رابطہ ہے کہ جس سے روح لذت اُٹھاتی ہے ۔ غرض یہ ایک منجانب اللہ اعلام لذیذ ہے کہ جس کو نفث في الروع اور وحی بھی کہتے ہیں ۔ ۔ دلیل المی نمبر اول۔ الہام کی ضرورت کوئی قانون عاصم ہمارے پاس ایسا نہیں ہے کہ جس کے ذریعہ سے ہم لزوماً غلطی سے بچ سکیں ۔ یہی باعث ہے کہ جن حکیموں نے قواعد منطق کے بنائے اور مسائل مناظرہ کے ایجاد کئے اور دلائل فلسفہ کے گھڑے، وہ بھی غلطیوں میں ڈوبتے رہے اور صد ہا طور کے باطل خیال اور جھوٹا فلسفہ اور نکمی باتیں اپنی نادانی کی یادگار میں چھوڑ گئے ۔ پس اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ اپنی ہی تحقیقات سے جمیع امور حقہ اور عقائد صحیحہ پر پہنچ جانا اور کہیں غلطی نہ کرنا ایک محال عادی ہے۔ کیونکہ آج تک ہم نے کوئی فرد بشر ایسا نہیں دیکھا اور نہ سنا اور نہ کسی تاریخی کتاب میں لکھا ہوا پایا کہ جو اپنی تمام نظر اور فکر میں سہو اور خطا سے کہ جواپنی اور میں ہو اور خطا معصوم ہو۔ پس بذریعہ قیاس استقرائی کے یہ صحیح اور سچا نتیجہ نکلتا ہے کہ وجود ایسے اشخاس کا کہ جنہوں نے بیچ اور گلتا ہے ایسے کا کہ صرف قانون قدرت میں فکر اور غور کر کے اور اپنے ذخیرہ کانشنس کو واقعات عالم سے مطابقت دے کر اپنی اور اپنے ذخیرہ کیا اس کو واقعات عالم سے مطابق تحقیقات کو ایسے اعلیٰ پایہ صداقت پر پہنچادیا ہو کہ جس میں غلطی کا نکلنا غیر ممکن ہو ، ہو، خود عادتاً غیر ممکن ہے۔