مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page iv of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page iv

موقوف ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کا دوسرے لفظوں میں اسلام نام ہے۔ اسی اسلام کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ اب چاہتا ہے اور ضرور تھا کہ وہ اس مہم عظیم کے روبراہ کرنے کیلئے ایک عظیم الشان کارخانہ جو ہر ایک پہلو سے مؤثر ہوا اپنی طرف سے قائم کرتا ۔ سو اُس حکیم و قدیر نے اس عاجز کو اصلاح خلائق کے لئے بھیج کر ایسا ہی کیا اور دنیا کو حق اور راستی کی طرف کھینچنے کیلئے کئی شاخوں پر امر تائید حق اور اشاعت اسلام کو منقسم کر دیا۔ چنانچہ منجملہ ان شاخوں کے ۔۔۔ چوتھی شاخ اس کا رخانہ کی وہ مکتوبات ہیں جو حق کے طالبوں یا مخالفوں کی طرف لکھے جاتے ہیں ۔ چنانچہ اب تک عرصہ مذکورہ بالا میں نوے ہزار سے بھی کچھ زیادہ خط آئے ہونگے جن کا جواب لکھا گیا بحجر بعض خطوط کے جو فضول یا غیر ضروری سمجھے گئے اور یہ سلسلہ بھی بدستور جاری ہے اور ہر ایک مہینے میں غالباً تین سو سے سات سو یا ہزار تک خطوط کی آمد و رفت کی نوبت پہنچتی ہے ۔ ( فتح اسلام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۰ تا ۲۲) ”ہم نے تو خدا کے اذن سے بادشاہان وقت کو دعوت کی یہاں تک کہ قیصرہ ہند کے ولی عہد کو اسلام کا خط لکھا ۔“ اور قریب تیس ہزار کے اس دعوی کے دکھلانے کے لیے اشتہارات تقسیم کئے گئے اور آٹھ ہزار انگریزی اشتہار اور خطوط انگریزی رجسٹری کرا کر ملک ہند کے تمام پادریوں اور پنڈتوں اور یہودیوں کی طرف بھیجے گئے اور پھر اس پر اکتفا نہ کر کے انگلستان اور جرمن اور فرانس اور یونان اور روس اور روم اور دیگر ممالک یورپ میں بڑے بڑے پادریوں کے نام اور شہزادوں اور وزیروں کے نام روانہ کئے گئے ۔ چنانچہ ان میں سے شہزادہ پرنس آف ویلز ولی عهد تخت انگلستان و ہندوستان اور گلیڈسٹون وزیر اعظم اور جرمن کا شہزادہ بسمارک ہے چنانچہ ان تمام صاحبوں کی رسیدوں سے ایک صندوق بھرا ہوا ہے۔ (مکتوب بنام منشی مظہر حسین صاحب - الحکم ۲۴ را گست ۱۹۰۱ ء صفحہ ۶ ) ان کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ملکہ وکٹوریہ کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور شاہ افغانستان کو بھی اپنے دعوئی اور اسلامی جہاد کی حقیقت سے اپنے مکتوب کے ذریعہ مطلع کیا۔ لد