مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 374

ہے کہ مجھے عدالت ڈگلس صاحب بہادر میں کرسی ملی تھی اور کوئی جھڑکی نہیں ملی اور اس شخص نے عام اشاعت کر دی ہے کہ مانگنے پر بھی کرسی نہیں ملی بلکہ جھڑکیاں ملیں اور ایسا ہی استغاثہ میں یہ بھی لکھا سکتا ہے کہ مجھے قدیم سے عدالت میں کرسی ملتی تھی اور ضلع کے کرسی نشینوں میں میرا نام درج ہے اور میرے باپ کا نام بھی درج تھا لیکن اس شخص نے ان سب باتوں سے انکار کر کے خلافِ واقعہ بیان کیا ہے۔پھر عدالت خود تحقیقات کر لے گی کہ آپ کو کرسی کی طلب کے وقت کرسی ملی تھی یا جھڑکیاں ملی تھیں اور دفتر سے معلوم کر لیا جائے گا کہ آپ اور آپ کے والد صاحب کب سے کرسی نشین رئیس شمار کئے گئے ہیں کیونکہ سرکاری دفتروں میں ہمیشہ ایسے کاغذات موجود ہوتے ہیں جن میں کرسی نشین رئیسوں کا نام درج ہوتا ہے۔اگر شیخ مذکور نے ان دونوں طریقوں میں سے کوئی طریق اختیار نہ کیا تو پھر ناچار ہمارا یہی قول ہے کہ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔زیادہ کیا لکھیں۔اور یاد رہے کہ ہمیں بالطبع نفرت تھی کہ ایسے ایک شخصی معاملہ میںقلم اُٹھائیں اور ذاتیات کے جھگڑوں میں اپنے تئیں ڈالیں اور اگر شیخ محمد حسین بٹالوی صرف اسی قدر جھوٹ پر کفایت کرتا کہ مجالس میں ہمارا ذکر درمیان نہ لاتا اور صرف اپنی پردہ پوشی کے لئے کرسی مانگنے کے معاملہ سے انکار کرتا رہتا تو ہمیں کچھ ضرورت نہ تھی کہ اصل حقیقت کو پبلک پر کھولتے۔لیکن اس نے نہایت خیرگی اختیار کر کے ہر ایک مجلس میں ہماری تکذیب شروع کی اور سراسر افتراء سے میری نسبت ہر ایک جگہ یہ دعویٰ کیا کہ یہ شخص کاذب ہے اور اس نے میرے پر کرسی کے معاملہ میں جھوٹ باندھا ہے اور اس طرح پر عوام کے دلوں پر بُرا اثر ڈالنا چاہا۔تب ہم نے اُس کے اس دروغ کو اکثر نادانوں کے دلوں پر مؤثر دیکھ کر محض حق کی حمایت میں یہ اشتہار لکھا تا بعض ناواقف ایک راست گو کو جھوٹا سمجھ کر ہلاک نہ ہو جائیں اور تا اس کی یہ دجالی تقریریں حقانی سلسلہ کی رہزن نہ ہوں۔غرض اسی ضرورت کی وجہ سے ہمیں اس کے اس مکروہ جھوٹ کو کھولنا پڑا۔بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ وہ خط شیخ محمد حسین بٹالوی کا میرے پاس موجود ہے جو آج یکم مارچ ۱۸۹۸ء کو بٹالہ سے اُس نے بھیجا ہے جس میں میرے بیان کرسی نہ ملنے اور جھڑکی کھانے سے صاف انکار کیا ہے اور ایسا ہی اُن لوگوں کے خط بھی محفوظ ہیں جن کے روبروے طرح طرح کی دروغگوئی سے اس واقعہ کو پوشیدہ کرنا چاہا ہے جیسا کہ اوپر لکھ چکا ہوں اور میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اُن معزز گواہوں کے نام بھی اس جگہ درج کر دوں جنہوں نے واقعہ مذکورہ بالا بچشم خود دیکھا اور یا عین موقعہ پر سُنا اور جو کچہری میں حاضر تھے اور وہ یہ ہیں۔