مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 373

تی ہے کہ اس شخص کو کیا ہو گیا اور اس قدر گندے جھوٹ پر کیوں کمربستہ کی۔ذرہ شرم نہیں کی کہ اس واقعہ کے توصدہا آدمی گواہ ہیں وہ کیا کہیں گے۔اس طرح تو آئندہ مولویوں کا اعتبار اُٹھ جائے گا۔اگر درحقیقت اس شیخ بٹالوی کو کرسی ملی تھی اور صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے بڑے اکرام اور اعزاز سے اپنے پاس اُن کو کرسی پر بٹھا لیا تھا تو پتہ دینا چاہیے کہ وہ کرسی کہاں بچھائی گئی تھی۔شیخ مذکور کو معلوم ہوگا کہ میری کرسی صاحب ڈپٹی کمشنر کے بائیں طرف تھی اور دائیںطرف صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ کی کرسی تھی اور اسی طرف ایک کرسی پر ڈاکٹر کلارک تھا۔اب دکھلانا چاہیے کہ کونسی جگہ تھی جس میں شیخ محمد حسین بٹالوی کے لئے کرسی بچھائی گئی تھی۔سچ تو یہ ہے کہ جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔اس شخص نے میری ذلت چاہی تھی اور اسی جوش میں پادریوں کا ساتھ کیا۔خدا نے اُس کو عین عدالت میں ذلیل کیا۔یہ حق کی مخالفت کا نتیجہ ہے اور یہ راستباز کی عداوت کا ثمرہ ہے۔اگر اس بیان میں نعوذباللہ میں نے جھوٹ بولا ہے تو طریق تصفیہ دو ہیں۔اوّل یہ کہ شیخ مذکور ہر ایک صاحب سے جو ذکر کئے گئے ہیں حلفی رقعہ طلب کرے جس میں قسم کھا کر میرے بیان کا انکار کیا ہو اور جب ایسے حلفی رقعے جمع ہو جائیں تو ایک جلسہ بمقام بٹالہ کر کے مجھ کو طلب کرے۔میں شوق سے ایسے جلسہ میں حاضر ہو جاؤں گا۔میں ایسے شخص کے رقعہ کو دیکھنا چاہتا ہوں جس نے حلفاً اپنے رقعہ میں یہ بیان کیا ہو کہ محمد حسین نے کرسی نہیں مانگی اور نہ اس کو کوئی جھڑکی ملی بلکہ عزت کے ساتھ کرسی پر بٹھایا گیا۔شیخ مذکور کو خوب یاد رہے کہ کوئی شخص اس کے لئے اپنا ایمان ضائع نہیں کریگا اور ہرگز ہرگز ممکن نہ ہوگا کہ کوئی شخص اشخاص مذکورین میں سے اس کے دعویٰ باطل کی تائید میں قسم کھاوے۔واقعاتِ صحیحہ کو چھپانا بے ایمانوں کا کام ہے۔پھر کیونکر کوئی معزز شیخ بٹالوی کے لئے مرتکب اس گناہ کا ہوگا اور اگر شیخ بٹالوی کو یہ جلسہ منظور نہیں تو دوسرا طریق تصفیہ یہ ہے کہ بلاتوقف ازالہ حیثیت عرفی میں میرے پر نالش کرے کیونکہ اس سے زیادہ اور کیا ازالہ حیثیت عرفی ہوگا کہ عدالت نے اس کو کرسی دی اور میں نے بجائے کرسی، جھڑکیاں بیان کیں اور عدالت نے قبول کیا کہ وہ اور اس کا باپ کرسی نشین رئیس ہیں اور میں نے اس کا انکار کیا۔اور استغاثہ میں وہ یہ لکھا سکتا