مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 19
مکتوبات احمد ۱۹ جلد اول صفت قیومی پروردگار کی کئی مقام میں ثابت کی ہے جیسا کہ مکرر اس دوسری آیت میں بھی فرمایا ہے۔ سورة النور اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ! یعنی خدا آسمان وزمین کا نور ہے ۔اسی سے طبقہ سفلی اور علوی میں حیات اور بقا کی روشنی ہے۔ پس اس ہماری تحقیق سے جز اول قیاس مرکب کی ثابت ہوئی اور صغری جز ثانی قیاس مرکب کا وہی ہے جو جز اول قیاس مرکب کا نتیجہ ہے اور جز اول قیاس مرکب کی ابھی ثابت ہو چکی ہے ۔ پس نتیجہ بھی ثابت ہو گیا اور کبری جزو ثانی کا جو زندہ ازلی ابدی اور قیوم سب چیزوں کا ہو وہ خالق ہوتا ہے اس طرح پر ثابت ہے کہ قیوم اُسے کہتے ہیں کہ جس کا بقا اور حیات دوسری چیزوں کے بقا اور حیات اور اُن کے کل مایحتاج کے حصول کا شرط ہو اور شرط کے یہ معنی ہیں کہ اگر اُس کا عدم فرض کیا جائے تو ساتھ ہی مشروط کا عدم فرض کرنا پڑے۔ جیسے کہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کا وجود نہ ہو تو کسی چیز کا وجود نہ ہو۔ پس یہ قول کہ اگر خدا تعالیٰ کا وجود نہ ہو تو کسی چیز کا وجود نہ ہو بعینہ اس قول کے مساوی ہے کہ خدا تعالیٰ کا وجود نہ ہوتا تو کسی چیز کا وجود نہ ہوتا ۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ خدائے تعالیٰ کا وجود دوسری چیزوں کے وجود کا علت ہے اور خالقیت کے بجز اس کے اور کوئی معنی نہیں کہ وجود خالق کا وجود مخلوق کے لئے عدت ہو۔ پس ثابت ہو گیا کہ خدا خالق ہے اور یہی مطلب تھا۔ یہ الراقم مرزاغلام احمد ۔ رئیس قادیان النور : ٣٦ پرانی تحریریں ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳ تا ۱۹