مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 349
کے والد صاحب، جِنّ کے بعض خطوط آپ کی فطرت اور آپ کے اوصافِ حمیدہ کے متعلق پاس بھی غالباً کسی بستہ میں پڑے ہوئے ہونگے، بزبانِ خودمشہور کر گئے ہیں۔٭ اے نیک بخت! اوّل ثابت تو کیا ہوتا کہ فلاں فلاں شخص کے رُوبرو اس عاجز نے کبھی جھوٹ بولا تھا۔اپنے التزام صدق کی جو میں نے نظیریں پیش کی ہیں ان کے مقابل پر بھلا کوئی نظیر پیش کرو تا آپ کا منہ اس لائق ٹھہرے کہ آپ اس شخص کی نکتہ چینی کر سکو جو سخت امتحان کے وقت صادق نکلا اور صدق کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔میں حیران ہوں کہ کونسا جن آپ کے سر پر سوار ہے جو آپ کی پردہ دری کرا رہا ہے۔آخر میں یہ بھی آپ کو یاد رہے کہ یہ آپ کا سراسر افتراء ہے کہ الہام کَلْبٌ یَّمُوْتُ عَلٰی کَلْبٍ۱؎ کو اپنے اوپر وارد کر رہے ہیں۔میں نے ہرگز کسی کے پاس یہ نہیں کہا کہ اس کامصداق آپ ہیں اور جو بعض درشت کلمات کی آپ شکایت کرتے ہیں، یہ بھی بے جا ہے۔آپ کی سخت بدزبانیوں کے جواب میں آپ کے کافر ٹھہرانے کے بعد، آپ کے دجّال اور شیطان اور کذاب کہنے کے بعد اگر ہم نے آپ کی موجودہ حالت کے مناسب آپ کو کچھ حق حق کہہ دیاتو کیا بُرا کیا آخر ۲؎ کا بھی تو ایک وقت ہے۔آپ کا یہ خیال کہ گویا یہ عاجز براہین احمدیہ کی فروخت میں دس ہزار روپیہ لوگوں سے لے کر خوردبرد کر گیا ہے یہ اس شیطان نے آپ کو سبق دیا ہے جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتا ہے۔آپ کو کیونکر معلوم ہو گیا کہ میری نیت میں براہین کا طبع کرنا نہیں۔اگر براہین طبع ہو کر شائع ہوگئی تو کیا اس دن شرم کا تقاضا نہیںہوگا کہ آپ غرق ہو جائیں؟ ہر یک دیر بدظنی پر مبنی نہیںہو سکتی اور میں نے تو اشتہار بھی دے دیا تھا کہ ہریک مستعجل اپنا روپیہ واپس لے سکتا ہے اور بہت سا روپیہ ٭نوٹ: آپ کو اس عاجز کے وہ احسانات بھول گئے جبکہ میں آپ کے والد صاحب کو آپ کی پردہ دری سے روکتا رہا۔آپ خوب جانتے ہیں کہ میں نے اُس سچے الزام کو کبھی پسند نہیں کیا جو آپ کے والد صاحب آپ کی نسبت اخباروں میں شائع کرانا چاہتے تھے اور میں آپ کی پردہ پوشی اور صفوتِ فطرت کا ہمیشہ حامی رہا اور انہیں روکتا رہا۔لیکن میرے احسان کا آپ نے یہ بدلہ دیا کہ میں نے تو سچے الزاموں سے آپ کو بچایا مگر آپ نے بحسب تقاضائے فطرت مبارکہ دروغ گوئی کا الزام میرے پر لگایا۔اب مجھے یقین ہوا کہ آپ کے والد صاحب بے شک سچے تھے۔منہ ۱؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ۱۴۵ ۲؎ التَّوبۃ: ۷۳