مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 348
مکتوبات احمد ۳۴۸ جلد اول سے مقدمات کیا کرتا۔ اور پھر یہ بھی یادر ہے کہ ان مقدمات کا مہاجنوں کے مقدمات پر قیاس کرنا کور باطن آدمیوں کا کام ہے۔ میں اس بات کو چھپا نہیں سکتا کہ کئی پشت سے میرے خاندان میں زمینداری چلی آتی ہے اور اب بھی ہے اور زمیندار کو ضرور تا کبھی مقدمہ کی حاجت پڑ جاتی ہے۔ مگر یہ امر ایک منصف مزاج کی نظر میں جرح کا محل نہیں ٹھہر سکتا ۔ حدیثوں کو پڑھو کہ وہ آخری زمانہ میں آنے والا اور اس زمانہ میں آنے والا ، کہ جب قریش سے بادشاہی جاتی رہے گی اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک تفرقہ اور پریشانی میں پڑی ہوئی ہوگی ، زمیندار ہی ہوگا اور مجھ کو خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ میں ہوں ۔ احادیث نبویہ میں صاف لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک مؤیّد دین وملت پیدا ہوگا اور اس کی یہ علامت ہوگی کہ وہ حارث ہو گا یعنی زمیندار ہوگا۔ اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر یک مسلمان کو چاہئے کہ اس کو قبول کر لیوے اور اس کی مدد کرے۔ اب سوچو کہ زمیندار ہونا تو میرے صدق کی ایک علامت ہے نہ جائے جرح ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول کرنے کے لئے حکم ہے نہ رڈ کیلئے ۔ چشم بد اندیش که برکنده باد عیب نماند هنرش در نظر ہاں مقدمہ بازی آپ کے والد صاحب کی جائے جرح ہو تو کچھ تعجب نہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ انگریزی عملداری میں اکثر سود خوروں کی مختار کاری میں ان کی عمر بسر ہوئی اور جس طرح بن پڑا انہوں نے بعض لوگوں کے مقدمے محنتانہ پر لئے ۔ گو وہ قانونی طور پر نہ مختار نہ وکیل بلکہ فیل شدہ بھی نہیں تھے۔ مگر پیٹ بھرنے کیلئے سب کچھ کیا ۔ لیکن یہ یہ ر عا عاجز : تو بجز اپنی زمینداری کے مقدمات کے جن میں اکثر آپ کے والد صاحب جیسے بلکہ عزت اور لیاقت میں ان سے بڑھ کر مختار بھی کئے ہوئے تھے، دوسروں کے مقدمات سے کبھی کچھ غرض نہیں رکھتا تھا اور مجھ کو یاد ہے بلکہ آپ کو بھی یاد ہوگا کہ ایک دفعہ آپ کے والد صاحب نے بھی مقام بٹالہ میں حضرت مرزا صاحب مرحوم کی خدمت میں اپنی تمنا ظاہر کی تھی کہ مجھ کو بعض مقدمات کیلئے نوکر رکھا جاوے تا بطور مختار عدالتوں میں جاؤں مگر چونکہ زمینداری مقدمات کی پیروی کی ان میں لیاقت نہیں تھی اس لئے عذر کر دیا گیا تھا۔ ہے ا ابو داؤد كتاب الفتن کے آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۹۹ تا ۳۰۴