مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 347
جھوٹ ہی کہتا ہے؟ اے کج طبع شیخ ! خدا جانے تیری کس حالت میں موت ہوگی۔کیا جو شخص اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے یا اپنے حقوق کی طلب کے لئے عدالت میں مقدمہ کرتا ہے اس کو ضرور جھوٹ بولنا پڑتا ہے؟ ہرگز نہیں۔بلکہ جس کو خدا تعالیٰ نے قوت صدق عطا کی ہو اور سچ سے محبت رکھتا ہو وہ بالطبع دروغ سے نفرت رکھتا ہے اور جب کوئی دنیوی فائدہ جھوٹ بولنے پر ہی موقوف ہو تو اس فائدہ کو چھوڑ دیتا ہے۔مگر افسوس کہ نجاست خور انسان ہر یک انسان کو نجاست خور ہی سمجھتا ہے۔جھوٹ بولنے والے ہمیشہ کہا کرتے ہیں کہ بغیر جھوٹ بولنے کے عدالتوں میں مقدمہ نہیں کر سکتے۔سو یہ قول ان کا اس حالت میں سچا ہے کہ جب ایک مقدمہ باز کسی حالت میں اپنے نقصان کا روا دار نہ ہو اور خواہ مخواہ ہریک مقدمہ میں کامیاب ہونا چاہئے مگر جو شخص صدق کو بہرحال مقدم رکھے وہ کیوں ایسا کرے گا۔جب کسی نے اپنا نقصان گوارا کر لیا تو پھر وہ کیوں کذب کا محتاج ہوگا۔اب یہ بھی واضح رہے کہ یہ سچ ہے کہ والد مرحوم کے وقت میں مجھے بعض اپنے زمینداری معاملات کی حق رسی کے لئے عدالتوں میں جانا پڑتا تھا مگر والد صاحب کے مقدمات صرف اس قسم کے تھے کہ بعض اسامیاں جو اپنے ذمہ کچھ باقی رکھ لیتی تھیں یا کبھی بلااجازت کوئی درخت کاٹ لیتی تھیں یا بعض دیہات کے نمبرداروں سے تعلق داری کے حقوق بذریعہ عدالت وصول کرنے پڑتے تھے اور وہ سب مقدمات بوجہ اس احسن انتظام کے کہ محاسب دیہات یعنی پٹواری کی شہادت اکثر ان میں کافی ہوتی تھی، پیچیدہ نہیں ہوتے تھے اور دروغگوئی کو ان سے کچھ تعلق نہیں تھا کیونکہ تحریراتِ سرکاری پر فیصلہ ہوتا تھا۔اور چونکہ اس زمانہ میں زمین کی بے قدری تھی اس لئے ہمیشہ زمینداری میں خسارہ اُٹھانا پڑتا اور بسا اوقات کم مقدمات کاکاشتکاروں کے مقابل پر خود نقصان اُٹھا کر رعایت کرنی پڑتی تھی اور عقلمند لوگ جانتے ہیں کہ ایک دیانتدار زمیندار اپنے کاشتکاروں سے ایسا برتاؤ رکھ سکتا ہے جو بحیثیت پورے متقی اور کامل پرہیز گار کے ہو۔اور زمینداری اور نیکوکاری میں کوئی حقیقی مخالفت اور ضد نہیں۔بایں ہمہ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ والد صاحب کے انتقال کے بعد کبھی میں نے، بجز اس خط کے مقدمہ کے جس کا ذکر کرچکا ہوں، کوئی مقدمہ کیا ہو۔اگر میں مقدمہ کرنے سے بالطبع متنفر نہ ہوتا (تو) میں والد صاحب کے انتقال کے بعد جو پندرہ سال کا عرصہ گذر گیا، آزادی