مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 345

اور نہ اس میں کوئی نج کی بات تھی۔اس بات کوسنتے ہی خدا تعالیٰ نے اس انگریز کے دل کو میری طرف پھیر دیا اور میرے مقابل پر افسر ڈاکخانہ جات نے بہت شور مچایا اور لمبی لمبی تقریریں انگریزی میں کیں جن کو میں نہیں سمجھتاتھا مگر اس قدر سمجھتا تھا کہ ہریک تقریر کے بعد زبان انگریزی میں وہ حاکم نونو کر کے اس کی سب باتوں کو ردّ کر دیتا تھا۔انجام کار جب وہ افسر مدعی اپنی تمام وجوہ پیش کر چکا اور اپنے تمام بخارات نکال چکا تو حاکم نے فیصلہ لکھنے کی طرف توجہ کی اور شاید سطر یا ڈیڑھ لکھ کر مجھ کو کہا کہ اچھا آپ کے لئے رخصت۔یہ سن کر میں عدالت کے کمرہ سے باہر ہوا اور اپنے محسن حقیقی کا شکر بجا لایا جس نے ایک افسر انگریز کے مقابل پر مجھ کو ہی فتح بخشی اور میں خوب جانتا ہوں کہ اس وقت صدق کی برکت سے خدا تعالیٰ نے اس بلا سے مجھ کو نجات دی۔میں نے اس سے پہلے یہ خواب بھی دیکھی تھی کہ ایک شخص نے میری ٹوپی اُتارنے کیلئے ہاتھ مارا۔میں نے کہا۔کیا کرنے لگا ہے؟ تب اس نے ٹوپی کو میرے سر پر ہی رہنے دیااور کہا کہ خیر ہے خیر ہے۔۱؎ ازانجملہ ایک نمونہ یہ ہے کہ میرے بیٹے سلطان احمد نے ایک ہندو پر بدیں بنیاد نالش کی کہ اس نے ہماری زمین پر مکان بنا لیا ہے اور مسماری مکان کا دعویٰ تھا اور ترتیب مقدمہ میں ایک امر خلاف واقعہ تھا۔جس کے ثبوت سے وہ مقدمہ ڈسمس ہونے کے لائق ٹھہرتا تھا اور مقدمہ کے ڈسمس ہونے کی حالت میں نہ صرف سلطان احمد کو بلکہ مجھ کو بھی نقصان تلف ملکیت اُٹھانا پڑتا تھا۔تب فریقِ مخالف نے موقعہ پا کر میری گواہی لکھا دی اور میں بٹالہ میں گیا اور بابو فتح الدین سب پوسٹ ماسٹر کے مکان پر جو تحصیل بٹالہ کے پاس ہے، جا ٹھہرا اور مقدمہ ایک ہندو منصف کے پاس تھا۔جس کا نام یاد نہیں رہا مگر ایک پاؤں سے وہ لنگڑا بھی تھا۔اس وقت سلطان احمد کا وکیل میرے پاس آیا کہ اب وقت پیشی مقدمہ ہے۔آپ کیا اظہار دیں گے میں نے کہا کہ وہ اظہار دوں گا جو واقعی امر اور سچ ہے۔تب اس نے کہا کہ پھر آپ کے کچہری جانے کی کیا ضرورت ہے۔میں جاتا ہوں تا مقدمہ سے دست بردار ہوجاؤں۔سو وہ مقدمہ میں نے اپنے ہاتھوں سے محض رعایت صدق کی وجہ سے آپ خراب کیا اور راست گوئی کو ابتغائً لمرضاتِ اللّٰہِ مقدم رکھ کر مالی نقصان کو ہیچ سمجھا۔یہ آخری دو نمونے بھی بے ثبوت نہیں۔پچھلے واقعہ کا گواہ شیخ علی احمد وکیل گورداسپور اور سردار محمد حیات خان صاحب ۱؎ آئینہ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۲۹۷ تا ۲۹۹