مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 17

اور آیت شریف جو اس قیاس پر متضمن ہے، یہ ہے دیکھو سورۃ البقرۃ الجزو۳۔۔۱؎ یعنی خدا اپنی ذات میں سب مخلوقات کے معبود ہونے کا ہمیشہ حق رکھتا ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔اس دلیل روشن سے کہ وہ زندہ ازلی ابدی ہے اور سب چیزوں کا وہی قیوم ہے یعنی قیام اور بقا ہر چیز کا اسی کے بقا اور قیام سے ہے اور وہی ہر چیز کو ہر دم تھامے ہوئے ہے، نہ اس پر اونگ طاری ہوتی ہے، نہ نیند اُسے پکڑتی ہے۔یعنی حفاظت مخلوق سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔پس جب کہ ہر ایک چیز کی قائمی اسی سے ہے۔پس ثابت ہے کہ ہر ایک مخلوقات آسمانوں کا اور مخلوقات زمین کا وہی خالق ہے اور وہی مالک۔اور شکل اس قیاس کی جو آیت شریف میں وارد ہے بقاعدہ منطقیہ اس طرح پر ہے (جز اوّل قیاس مرکب کی) (صغریٰ) خدا کو بلا شرکتہ الغیر تمام مخلوقات کے معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہے (کبریٰ) اور جس کو تمام مخلوقات کے معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہو وہ زندہ ازلی ابدی اور تمام چیزوں کا قیوم ہوتا ہے (نتیجہ) خدا زندہ ازلی ابدی اور تمام چیزوں کا قیوم ہے۔(جز ثانی قیاس مرکب کی کہ جس میں نتیجہ قیاس اوّل کا صغریٰ قیاس کا بنایا گیا ہے (صغریٰ) (خداوند ازلی ابدی اور تمام چیزوں کا قیوم ہے) (کبریٰ) اور جو زندہ ازلی ابدی اور تمام چیزوں کا قیوم ہو وہ تمام اشیاء کا خالق ہوتا ہے) (نتیجہ)(خدا تمام چیزوں کا خالق ہے) صغریٰ جزو اوّل قیاس مرکب کا یعنی یہ قضیہ کہ خدا کا بلاشرکت غیرے تمام مخلوقات کے معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہے باقرار فریق ثانی ثابت ہے۔پس حاجت اقامت دلیل کی نہیں اور کبریٰ جز اوّل قیاس مرکب کا یعنی یہ قضیہ کہ جس کو تمام اشیاء کے معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہو وہ زندہ ازلی ابدی اور تمام اشیاء کا قیوم ہوتا ہے۔اس طرح پر ثابت ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ ازلی ابدی زندہ نہیں ہے تو یہ فرض کرنا پڑا کہ کسی وقت پیدا ہو یا آئندہ کسی وقت باقی نہیں رہے گا۔دونوں صورتوں میں ازلی ابدی معبود ہونا اس کا باطل ہوتا ہے کیونکہ جب اس کا وجود ہی نہ رہا تو پھر عبادت اس کی نہیں ہو سکتی کیونکہ عبادت معدوم کی صحیح نہیں ہے اور جب وہ بوجہ معدوم ہونے کے معبود ازلی ابدی نہ رہا تو اس سے یہ قضیہ کاذب ہوا کہ خدا کو معبود ہونے کا حق ازلی ابدی ہے۔حالانکہ ابھی ذکر ہوچکا ہے کہ یہ قضیہ صادق ہے۔پس ماننا پڑا کہ جس کو