مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 336

مکتوبات احمد ۳۳۶ جلد اول دی جاوے اور پھر جلسہ عام میں وہ پرچہ بآواز بلند سنا دیا جاوے۔ دیا (۵) اس بحث میں تقریراً یا تحریراً کسی تیسرے آدمی کا ہرگز دخل نہ ہو ۔ نہ تصریحاً نہ اشارتاً نہ کنایہ اور جلسہ بحث میں کسی کتاب سے مدد نہ لی جائے بلکہ جو کچھ فریقین کو زبانی یاد ہے وہی لکھا جاوے تا تکلف اور تصنع کو اس میں دخل نہ ہو ۔ لیکن اگر کوئی فریق یہ ظاہر کرے کہ میں بغیر کتابوں کے کچھ لکھ نہیں سکتا تو پہلے یہ تحریری اقرار اپنی عجز بیانی کا دے کر پھر اسے کتاب سے مدد لینے کا اختیار ہوگا ۔ (۶) اگر کوئی فریق بعض امور تمهیدی قبل از اصل بحث پیش کرنا چاہے تو فریق ثانی کو بھی اختیار ہوگا کہ ایسے ہی اُمور تمہیدی وہ بھی پیش کرے مگر دونوں کی طرف سے یہ تمہیدی اُمور ایک ایک پر چہ تحریری طور پر پیش ہونگے ۔ ایسے پرچہ کی نسبت فریقین کو اختیا ر ہوگا ۔ کہ جو پہلے لکھ رکھا وہی پیش کر دے لیکن دوسری تمام تحریر رو برو جلسہ کے ہوگی ۔ کوئی تحریر اپنے گھر سے لکھی ہوئی پیش نہیں کی جائے گی ۔ (۷) بحث صبح کے چھ بجے سے دن کے گیارہ بجے تک ہو گی اور اگر ایک جلسہ کافی نہ ہوگا تو پھر دوسرے جلسے میں اور اگر دوسرا بھی کافی نہ ہو تو تیسرے دن تک ہو سکتی ہے۔ (۸) پر چوں کی تحریر کا وقت مساوی ہونا چاہیے ۔ (۹) بحث کے دن سے پہلے دس روز ہمیں اطلاع ہونی چاہیے کیونکہ اس بحث کے دیکھنے کے لئے دور دور سے لوگ آنے والے ہیں ۔ (۱۰) بحث جلسہ عام میں ہوگی اور یہ عاجز اپنے دوستوں کو اطلاع دینے کے لئے ایک اشتہار چھاپ کر شائع کرے گا اور فریق ثانی کا اختیار ہو گا چاہے وہ بھی اشتہار شائع کرے یا نہ کرے۔ (۱۱) حاضرین کی منصفی کی کچھ ضرورت نہیں اور نہ ہو سکتی ہے بلکہ دونوں فریق کی تحریریں اخبارات اور اشتہارات کے ذریعہ سے پبلک کے سامنے رکھی جائیں گی ۔ تب لوگ عام طور پر خود انصاف کر لیں گے ۔ راقم ۶ جون ۱۸۹۱ء اشاعة السنه جلد ۱۳ نمبر ۳ صفحه ۹۶ مرزاغلام احمد عفی عنہ از لودھیا نه محله اقبال گنج