مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 322

چاہئے۔ہاں یہ عاجز روحانی طور پر مثیل موعود ہونے کا براہین میں دعویٰ کر چکا ہے جیسا کہ اسی صفحہ۴۹۸ میں موعود ہونے کی نسبت یہ اشارہ ہے۔صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ۔چونکہ آپ نے اپنے ریویو میں اس دعویٰ کا ردّ نہیں کیا اس لئے اپنے اس معرض بیان میں سکوت اختیار کر کے، اگرچہ ایمانی طور پر نہیں مگر امکانی طور پر مان لیا۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس عاجز نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر براہین احمدیہ میں ابن مریم کے موعود یا غیر موعود ہونے کے بارہ (میں) کچھ بھی ذکر نہیں کیا۔صرف ایک مشہور عقیدہ کے طور سے ذکر کر دیا تھا آپ کو اس جگہ اسے پیش کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی بعض اعمال میں، جب وحی نازل نہیں ہوتی تھی، انبیاء بنی اسرائیل کی سنن مشہورہ کا اقتدا کیا کرتے تھے اور وحی کے بعد جب کچھ ممانعت پاتے تھے تو چھوڑ دیتے تھے۔اس کو تو ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے۔آپ جیسے فاضل کیوں نہیں سمجھیں گے۔مجھے نہایت تعجب ہے کہ آپ یہی طریق انصاف پسندی کا قرار دیتے ہیں۔کیا اس عاجز نے کسی جگہ دعویٰ کیا ہے کہ میرا ہر ایک نطق وحی اور الہام میں داخل ہے۔اگر آپ طریق فیصلہ اسی کو ٹھہراتے ہیں تو بسم اللہ! میرے رسالہ کا جواب لکھنا شروع کیجئے۔آخر حق کو فتح ہوگی۔میں نے آپ کو ایک صلاح دی تھی کہ عام جلسہ علماء کا بمقام امرتسر منعقد ہو اور ہم دونوں حسبۃً للہ و اظہاراً لِلْحَقِّ اس جلسہ میں تحریری طور پر اپنی اپنی وجوہات بیان کریں اور پھر وہی وجوہات حاضرین کو پڑھ کر سنا دیں اور وہی آپ کے رسالہ میں چھپ جائیں۔دُور و نزدیک کے لوگ خود دیکھ لیں گے جس حالت میں آپ اس کام کے لئے ایسے سرگرم ہیں کہ کسی طرح رُکنے میں نہیں آتے اور جب تک اشاعۃ السنۃ میں عام طور پر اپنے مخالفانہ خیال کو شائع نہ کر دیں صبر نہیں کر سکتے تو کیا اِس تحریری مباحثہ میں کسی فریق کی کسرشان ہے؟ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس جلسہ میں خاک کی طرح متواضع ہو کر حاضر ہو جاؤں گااور اگر کوئی ایسی سخت دُشنامی بھی کرے جو انتہا تک پہنچ گئی ہو تو میں اس پر بھی صبر کروں گا اور سراسر تہذیب اور نرمی سے تحریر کروں گا۔خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے جو اس نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔اگر آپ مجھے اب بھی اجازت دیں تو میں اشتہارات سے اس جلسہ کیلئے عام طور پر خبر کر دوں۔