مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 318

سی مغز خواری کرنے کے بعد کب روا رکھ سکتا ہے کہ غیر منتظم طریق کی وجہ سے تمام محنت اس کی ضائع جائے اور طالب حق کو اس کی تقریر سے فائدہ نہ پہنچ سکے۔سو تحریری بحث کا ہونا ایک شرط ہے۔(۳) اس مجمع بحث میں وہ الہامی گروہ بھی ضرور شامل چاہئے۔جنہوں نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے اس عاجز کو جہنمی ٹھہرایا ہے اور ایسا کافر جو ہدایت پذیر نہیں ہو سکتا، اور مباہلہ کی درخواست کی ہے۔الہام کی رو سے کافر اور ملحد ٹھہرانے والے تو میاں مولوی عبدالرحمن لکھوکے والے ہیں۔اور جہنمی ٹھہرانے والے میاں عبدالحق غزنوی ہیں۔جن کے الہامات کے مصدق و پیرو میاں مولوی عبدالجبار ہیں۔سو ان تینوں کا جلسہ بحث میں حاضر ہونا ضروری ہے تا کہ مباہلہ کا بھی ساتھ ہی قضیہ طے ہو جائے۔اور اگر مولوی صاحب باہم مسلمانوں کے مباہلہ کو صورت پیش آمدہ میں ناجائز قرار نہ دیں تو مباہلہ بھی اسی مجلس میں ہو جائے کیونکہ یہ عاجز اکثر بیمار رہتا ہے۔بار بار سفر کی طاقت نہیں۔(۴) یہ کہ تحریری بحث کیلئے تمام مخالف الرائے مولوی صاحبوں کی طرف سے آپ منتخب ہوں۔کیونکہ یہ عاجز نہیں چاہتا کہ خواہ نخواہ لعن طعن ہو اور تُو تُو میں میں متفرق لوگوں کا سُنے۔ایک مہذب اور شائستہ آدمی تحریری طور پر سوالات پیش کرے۔کہ اس عاجز کے اس دعویٰ میں جس کی الہام الٰہی پر بنا ہے، کیا خرابیاں ہیں اور کیا وجہ ہے کہ اس کو قبول نہ کیا جاوے۔سو اس عاجز کی دانست میں اس کام کیلئے آپ سے بہتر اور کوئی نہیں۔(۵) یہ آپ کا اختیار ہے کہ جس تاریخ میں آپ گنجائش سمجھیں مجھے اور اخویم مولوی نورالدین صاحب کو اطلاع دیں۔چونکہ یہ عاجز بیمار ہے اور مرض سدر و دَوّار سے لاچار اور ضعیف بہت ہے۔اس لئے اخویم مولوی نورالدین صاحب کا شامل آنا مناسب سمجھتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ اس عاجز کی طبیعت زیادہ علیل ہو جائے جیسا کہ اکثر دورہ مرض کا ہوتا رہتا ہے اور زیادہ بات کرنے سے سخت دورہ مرض کا ہوتا ہے۔اس صورت میں مولوی صاحب موصوف حسب منشاء اس عاجز کے مناسب وقت کارروائی کر سکتے ہیں۔(۶)اگر آپ ہندوستان کی طرف سفر کرنا چاہتے ہیں تو لدھیانہ راہ میں ہے۔کیا بہتر نہیں کہ لدھیانہ میں ہی یہ مجلس قرار پائے؟ یہ عاجز بیمار ہے، حاضری سے عذر کچھ نہیں مگر ایسی صورت میں مجھے بیماری کی حالت میں شدائد سفر اُٹھانے سے امن رہے گا ورنہ جس جگہ غزنوی صاحبان اور