مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 313

مکتوبات احمد ۳۱۳ مکتوب نمبرے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جلد اول مخدومی مکرمی اخویم مولوی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ : السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ محبت نامہ پہنچا۔ چونکہ آں مکرم عزم پختہ کر چکے ہیں تو پھر میں کیا عرض کر سکتا ہوں ۔ اس عاجز کی طبیعت بیمار ہے ۔ دورانِ سر اور ضعف بہت ہے ۔ ایسی طاقت نہیں کہ کثرت سے بات کروں ۔ جس حالت میں آس مکرم کسی طور سے اپنے ارادہ سے باز نہیں رہ سکتے اور ایساہی یہ عاجز اس بصیرت اور علم سے اپنے تئیں نا بینا نہیں کر سکتا جو حضرت احدیت جل شانہ نے بخشا ہے ۔ اس صورت میں گفتگو عبث ہے۔ رسالہ ابھی کسی قدر باقی ہے، ناقص کو میں بھیج نہیں سکتا ۔ اس جگہ آنے کیلئے آں مکرم کو یہ عاجز تکلیف دینا نہیں چاہتا ۔ مگر ۲۶ فروری ۱۸۹۱ء کو یہ عاجز انشاء اللہ القدیر لودیانہ کے ارادہ سے بٹالہ میں پہنچے گا ۔ وہاں صرف آپ کی ملاقات کرنے کا شوق ہے، گفتگو کی ضرورت نہیں ۔ اور یہ عاجز الله آپ کے ان الفاظ کے استعمال سے جو مخالفانہ تحریر کی حالت میں کبھی حد سے بڑھ جاتے ہیں یا اپنے بھائی کی تذلیل اور بدگمانی تک نوبت پہنچاتے ہیں معاف کرتا ہے۔ وَاللَّهُ عَلَى مَا قُلْتُ شَهِيدٌ اور تک نوبت پہنچا چند روز کا ذکر ہے کہ پرانے کاغذات کو دیکھتے دیکھتے ایک پرچہ نکل آیا جو میں نے اپنے ہاتھ پر جو میں سے بطور یادداشت کے لکھا تھا اُس میں تحریر تھا کہ یہ پرچہ ۵ / جنوری ۱۸۸۸ء کو لکھا گیا ہے۔ مضمون ۵ر یہ تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب نے کسی امر میں مخالفت کر کے کوئی تحریر چھپوائی ہے اور اُس کی سرخی میری نسبت ” کمینہ رکھی ہے ۔ معلوم نہیں اس کے کیا معنے ہیں ۔ اور وہ تحریر پڑھ کر کہا ہے کہ آپ کو میں نے منع کیا تھا پھر آپ نے کیوں ایسا مضمون چھپوایا ۔ هَذَا مَا رَأَيْتُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِتَأْوِيلِهِ L چونکہ حتی الوسع خواب کی تصدیق کیلئے کوشش مسنون ہے اس لئے میں آں مکرم کو منع بھی کرتا ہوں کہ آپ اس ارادہ سے دست کش رہیں ۔ خدائے تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اپنے دعوئی میں صادق ہوں اور اگر صادق نہیں تو پھر اِنْ يَّاتُ كَاذِبًا کے کی تہدید پیش آنے والی ہے۔ لا تذکرہ صفحہ ۱۲۰۔ ایڈیشن چہارم المؤمن : ۲۹