مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 313

کے کاموں کے لحاظ سے مولوی نذیر حسین صاحب سے بھی بہتر سمجھتا ہوں اور اگرچہ میں آپ سے ان باتوں کی شکایت کروں تا ہم مجھے بوجہ آپ کی صفائی باطن کے آپ سے محبت ہے۔اگر میں شناخت نہ کیا جاؤں تو میں سمجھوں گا کہ میرے لئے یہی مقدر تھا۔مجھے فتح اور شکست سے بھی کچھ تعلق نہیں بلکہ عبودیت و اطاعت حکم سے غرض ہے۔میں جانتا ہوں کہ اس خلاف میں آپ کی نیت بخیر ہوگی۔لیکن میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ اوّل مجھ سے بات چیت کر کے اور میری کتابوں کو یعنی رسالہ ثلاثہ کو دیکھ کر کچھ تحریر کریں۔مجھے اِس سے کچھ غم اور رنج نہیں کہ آپ جیسے دوست مخالفت پر آمادہ ہوں۔کیونکہ یہ مخالفت رائے بھی حق کیلئے ہوگی۔کل میں نے اپنے بازو پر یہ لفظ اپنے تئیں لکھتے ہوئے دیکھا کہ میں اکیلا ہوں اور خدا میرے ساتھ ہے اور اُس کے ساتھ مجھے الہام ہوا۔۔۱؎ سو میں جانتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ اپنی طرف سے کوئی حجت ظاہر کر دے گا۔میں آپ کے لئے دعا کروں گا۔مگر ضرور ہے کہ جو آپ کے لئے مقدر ہے وہ سب آپ کے ہاتھ سے پورا ہو جائے۔حضرت موسیٰ کی جو آپ نے مثل لکھی ہے۔اشارۃُ النَّص پایا جاتا ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے۔جیسا کہ موسیٰ نے کیا۔اس قصے کو قرآن شریف میں بیان کرنے سے غرض بھی یہی ہے کہ تا آئندہ حق کے طالب معارفِ روحانیہ اور عجائباتِ مخفیہ کے کھلنے کے شائق رہیں، حضرت موسیٰ کی طرح جلدی نہ کریں۔حدیث صحیح بھی اسی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اب مجھے آپ کی ملاقات کے لئے صحت حاصل ہے۔اگر آپ بٹالے میں آ جائیں تو اگرچہ میں بیمار ہوں اور دورانِ سر اس قدر ہے کہ نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی تا ہم افتاں و خیزاں آپ کے پاس پہنچ سکتا ہوں۔بقول رنگین ع وہ نہ آوے تو تُو ہی چل رنگین اس میں کیا تیری شان جاتی ہے ازالۃ الاوہام ابھی چھپ کر نہیں آیا۔فتح اسلام اور توضیح المرام ارسال خدمت ہیں۔الراقم غلام احمد از قادیان ۱؎ الشعرآء: ۶۳ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ۳۷ مکتوب نمبر۷ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ :السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محبت نامہ پہنچا۔چونکہ آں مکرم عزم پختہ کر چکے ہیں تو پھر میں کیا عرض کر سکتا ہوں۔اس عاجز کی طبیعت بیمار ہے۔دورانِ سر اور ضعف بہت ہے۔ایسی طاقت نہیں کہ کثرت سے بات کروں۔جس حالت میں آںمکرم کسی طور سے اپنے ارادہ سے باز نہیں رہ سکتے اور ایسا ہی یہ عاجز اس بصیرت اور علم سے اپنے تئیں نابینا نہیں کر سکتا جوحضرت احدیت شانہٗ نے بخشا ہے۔اس صورت میں گفتگو عبث ہے۔رسالہ ابھی کسی قدر باقی ہے، ناقص کو میں بھیج نہیں سکتا۔اس جگہ آنے کیلئے آںمکرم کو یہ عاجز تکلیف دینا نہیں چاہتا۔مگر ۲۶؍ فروری ۱۸۹۱ء کو یہ عاجز انشاء اللہ القدیر لودیانہ کے ارادہ سے بٹالہ میں پہنچے گا۔وہاں صرف آپ کی ملاقات کرنے کا شوق ہے، گفتگو کی ضرورت نہیں۔اور یہ عاجز للہ آپ کے ان الفاظ کے استعمال سے جو مخالفانہ تحریر کی حالت میں کبھی حد سے بڑھ جاتے ہیں یا اپنے بھائی کی تذلیل اور بدگمانی تک نوبت پہنچاتے ہیں معاف کرتاہے۔وَاللّٰہُ عَلٰی مَاقُلْتُ شَہِیْدٌ چند روز کا ذکر ہے کہ پرانے کاغذات کو دیکھتے دیکھتے ایک پرچہ نکل آیا جو میں نے اپنے ہاتھ سے بطور یادداشت کے لکھا تھا اُس میں تحریر تھا کہ یہ پرچہ ۵؍ جنوری ۱۸۸۸ء کو لکھا گیا ہے۔مضمون یہ تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مولوی محمدحسین صاحب نے کسی امر میں مخالفت کر کے کوئی تحریر چھپوائی ہے اور اُس کی سرخی میری نسبت ’’کمینہ‘‘ رکھی ہے۔معلوم نہیں اس کے کیا معنے ہیں۔اور وہ تحریر پڑھ کرکہا ہے کہ آپ کو میں نے منع کیا تھا پھر آپ نے کیوں ایسا مضمون چھپوایا۔ھَذَا مَارَأَیْتُ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِتَاْوِیْلِہٖ ۱؎ چونکہ حتی الوسع خواب کی تصدیق کیلئے کوشش مسنون ہے اس لئے میں آںمکرم کو منع بھی کرتا ہوں کہ آپ اس ارادہ سے دست کش رہیں۔خدائے تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اپنے دعویٰ میں صادق ہوں اور اگر صادق نہیں تو پھر  ۲؎کی تہدید پیش آنے والی ہے۔۱؎ تذکرہ صفحہ ۱۲۰۔ایڈیشن چہارم ۲؎ المؤمن: ۲۹