مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 312
کے کاموں کے لحاظ سے مولوی نذیر حسین صاحب سے بھی بہتر سمجھتا ہوں اور اگرچہ میں آپ سے ان باتوں کی شکایت کروں تا ہم مجھے بوجہ آپ کی صفائی باطن کے آپ سے محبت ہے۔اگر میں شناخت نہ کیا جاؤں تو میں سمجھوں گا کہ میرے لئے یہی مقدر تھا۔مجھے فتح اور شکست سے بھی کچھ تعلق نہیں بلکہ عبودیت و اطاعت حکم سے غرض ہے۔میں جانتا ہوں کہ اس خلاف میں آپ کی نیت بخیر ہوگی۔لیکن میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ اوّل مجھ سے بات چیت کر کے اور میری کتابوں کو یعنی رسالہ ثلاثہ کو دیکھ کر کچھ تحریر کریں۔مجھے اِس سے کچھ غم اور رنج نہیں کہ آپ جیسے دوست مخالفت پر آمادہ ہوں۔کیونکہ یہ مخالفت رائے بھی حق کیلئے ہوگی۔کل میں نے اپنے بازو پر یہ لفظ اپنے تئیں لکھتے ہوئے دیکھا کہ میں اکیلا ہوں اور خدا میرے ساتھ ہے اور اُس کے ساتھ مجھے الہام ہوا۔۔۱؎ سو میں جانتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ اپنی طرف سے کوئی حجت ظاہر کر دے گا۔میں آپ کے لئے دعا کروں گا۔مگر ضرور ہے کہ جو آپ کے لئے مقدر ہے وہ سب آپ کے ہاتھ سے پورا ہو جائے۔حضرت موسیٰ کی جو آپ نے مثل لکھی ہے۔اشارۃُ النَّص پایا جاتا ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے۔جیسا کہ موسیٰ نے کیا۔اس قصے کو قرآن شریف میں بیان کرنے سے غرض بھی یہی ہے کہ تا آئندہ حق کے طالب معارفِ روحانیہ اور عجائباتِ مخفیہ کے کھلنے کے شائق رہیں، حضرت موسیٰ کی طرح جلدی نہ کریں۔حدیث صحیح بھی اسی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اب مجھے آپ کی ملاقات کے لئے صحت حاصل ہے۔اگر آپ بٹالے میں آ جائیں تو اگرچہ میں بیمار ہوں اور دورانِ سر اس قدر ہے کہ نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی تا ہم افتاں و خیزاں آپ کے پاس پہنچ سکتا ہوں۔بقول رنگین ع وہ نہ آوے تو تُو ہی چل رنگین اس میں کیا تیری شان جاتی ہے ازالۃ الاوہام ابھی چھپ کر نہیں آیا۔فتح اسلام اور توضیح المرام ارسال خدمت ہیں۔الراقم غلام احمد از قادیان ۱؎ الشعرآء: ۶۳ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ۳۷