مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 311
مکتوبات احمد ۳۱۱ مکتوب نمبر ۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جلد اول مخدومی اخویم ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ عاجز کی طبیعت علیل ہے۔ ا خویم منشی عبد الحق صاحب کو تاکید فرماویں کہ جہاں تک جلد ممکن ہو معمولی گولیاں ارسال فرمائیں ۔ توجہ سے کہہ دیں ۔ افسوس کہ میری علالت طبع کے وقت آپ عیادت کیلئے بھی نہیں آئے ۔ اور آپ کے استفسار کے جواب میں صرف ”ہاں“ کافی سمجھتا ہوں ۔ والسلام ۵ فروری ۱۸۹۱ء مکتوب نمبر ۶ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي خاکسار غلام احمد مخدومی مکرمی اخویم مولوی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم و رحمۃ ا اللہ وبرکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ اگر چہ خدا وند کریم خوب جانتا ہے کہ یہ عاجز اُس کی طرف سے مامور ہے اور ایسے امور میں جہاں عوام کے فتنے کا اندیشہ ہے، جب تک کامل اور قطعی اور یقینی طور پر اس عاجز اور اور عامہ پر ظاہر نہیں کیا جاتا ، ہرگز زبان پر نہیں لاتا ۔ لیکن اس میں کچھ حکمت خداوند کریم کی ہوگی کہ اس پرنہیں لاتا۔ اس میں کہ اس نزول مسیح کے مسئلے میں جس کو اصل اور کب اسلام سے کچھ تعلق نہیں اور ایک مسلمان پر اس کی اصل کچھ حقیقت کھولی گئی ہے۔ جس پر بوجہ اخوت حسن ظن بھی کرنا چاہئے ۔ آں مکرم کو مخالفانہ تحریر کے لئے جوش دیا گیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپ کی اس میں نیت بخیر ہوگی ۔ اور اگر چہ مجھے آپ کے استعجال کی نسبت شکایت ہو اور اس کو رو برو یا غائبانہ بیان بھی کروں ۔ مگر آپ کی نیت کی نسبت مجھے حسن ظن ہے اور آپ کو زمانہ حال کے اکثر علماء، بلکہ اگر آپ ناراض نہ ہوں ، تو بعض للّہی جد وجہد