مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 12

مکتوبات احمد الم جلد اول اور شق پنجم یعنی خود مختار ہونا اور کسی کے حکم کے ماتحت ہونا ممتنع الوجود ہے۔ کیونکہ نفس انسان کا بضرورت استکمال ذات اپنی کے ایک مُكَمِّل کا محتاج ہے اور محتاج کا خود مختار ہونا محال ہے۔ اس سے اجتماع نقیضین لازم آتا ہے۔ پس جبکہ بغیر ذریعہ خالق کے موجود ہونا موجودات کا بہر صورت ممتنع اور محال ہوا تو بالضرور یہی ماننا پڑا کہ تمام اشیاء موجودہ محدودہ کا ایک خالق ہے جو ذات باری تعالیٰ ہے ۔ اور شکل اس قیاس کی جو ترتیب مقدمات صغری کبری سے با قاعدہ منطقیہ مرتب ہوتی ہے اس طرح پر ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ قضیہ فی نفسہ صادق ہے کہ کوئی شے بجز ذریعہ واجب الوجود کے موجود نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ اگر صادق نہیں ہے تو پھر اس کی نقیض صادق ہوگی کہ ہر ایک شے بجز ذریعہ واجب الوجود کے وجود پکڑ سکتی ہے اور یہ دوسرا قضیہ ہماری تحقیقات مندرجہ بالا میں ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ وجود تمام اشیاء ممکنہ کا بغیر ذریعہ واجب الوجود کے محالات خمسہ کو مستلزم ہے۔ پس اگر یہ قضیہ صحیح نہیں ہے کہ کوئی شے بجز ذریعہ واجب الوجود کے موجود نہیں ہو سکتی تو یہ قضیہ صحیح ہوگا کہ وجود تمام اشیاء کو محالات خمسہ لازم ہیں لیکن وجود اشیاء کا با وصف لزوم محالات خمسہ کے ایک امر محال ہے۔ پس نتیجہ نکلا کہ کسی شے کا بغیر واجب الوجود کے موجود ہونا امر محال ہے۔ اور یہی مطلوب تھا۔ دلیل چہارم قرآن مجید میں بذریعہ مادہ قیاس اقترانی قائم کی گئی ہے۔ جاننا چاہئے کہ ہے۔ قیاس حجت کی کی تین قسموں میں سے سے پہلی پہلی قسم قسم ہے۔ ہے۔ اور اور قیاس قیاس اقترانی اقترانی وہ وہ قیاس ہے کہ ہے کہ جس جس میں میں میں عین نتیجہ نتیجہ کا کا یا نقیض اس کی بالفعل مذکور نہ ہو بلکہ بالقوہ پائی جائے اور اقترانی اس جہت سے کہتے ہیں کہ حدوداس کے یعنی اصغر اور اوسط اور اکبر مقترن ہوتی ہیں اور بالعموم قیاس حجت کے تمام اقسام سے اعلیٰ اور افضل ہے کیونکہ اس میں کلی کے حال سے جزئیات کے حال پر دلیل پکڑی جاتی ہے کہ جو بباعث استیفاء تام کے مفید یقین کامل کے ہے۔ پس وہ قیاس کہ جس کی اتنی تعریف ہے اس آیت شریفہ میں درج ہے اور ثبوت خالقیت باری تعالیٰ میں گواہی دے رہا ہے ۔ دیکھو سورۃ الحشر جز و ۲۸ ۔ ٹھو الله الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى لیے وہ اللہ خالق ہے یعنی پیدا کنندہ ہے، وہ باری ہے یعنی روحوں اور اجسام کو عدم سے وجود بخشنے والا ہے ، وہ مصوّر ہے یعنی صورت جسمیہ اور ا الحشر: ۲۵