مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 289

سے کیا گیا۔حالانکہ یوسف اس نکاح سے ناراض تھا اوراس کی پہلی بیوی موجود تھی۔وہ لوگ جو تعددِ ازدواج سے منکر ہیں شائد ان کو یوسف کے اس نکاح کی اطلاع نہیں۔غرض اس جگہ ایک معترض کا حق ہے کہ وہ یہ گمان کرے کہ اس نکاح کی یہی وجہ تھی کہ قوم کے بزرگوں کو مریم کی نسبت ناجائز حمل کا شبہ پیدا ہو گیا تھا۔اگرچہ ہم قرآن شریف کی تعلیم کی رو سے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ حمل محض خدا کی قدرت سے تھا تا خدا تعالیٰ یہودیوں کو قیامت کا نشان دے۔اور جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزار ہا کیڑے مکوڑے خود بخود پید اہو جاتے ہیںاور حضرت آدم علیہ السلام بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ ؑ کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیںہوتی۔بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قویٰ سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔القصہ حضرت مریم کانکاح محض شبہ کی وجہ سے ہوا تھا۔ورنہ جو عورت بیت المقدس کی خدمت کرنے کے لئے نذر ہو چکی تھی اس کے نکاح کی کیا ضرورت تھی۔افسوس اس نکاح سے بڑے فتنے پید اہوئے اور یہود نابکارنے ناجائز تعلق کے شبہات شائع کئے۔پس اگر کوئی اعتراض قابلِ حل ہے تو یہ اعتراض ہے نہ کہ مریم کا ہارون بھائی قرار دینا کچھ اعتراض ہے۔قرآن شریف میں تو یہ بھی لفظ نہیں کہ ہارون نبی کی مریم ہمشیرہ تھی۔صرف ہارون کا نام ہے۔نبی کا لفظ وہاں موجود نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ یہودیوں میں یہ رسم تھی کہ نبیوں کے نام تبرکاً رکھے جاتے تھے۔سو قرین قیاس ہے کہ مریم کاکوئی بھائی ہو گا جس کا نام ہارون ہو گا اور اس بیان کو محل اعتراض سمجھنا سراسر حماقت ہے۔اور قصہ اصحابِ کہف وغیرہ اگر یہودیوں اور عیسائیوں کی پہلی کتابوں میں بھی ہو۔اور اگر فرض کر لیں کہ وہ لوگ ان قصوں کو ایک فرضی قصے سمجھتے ہوں تو اس میں کیاحرج ہے۔آپ کو یاد رہے کہ ان لوگوں کی مذہبی اور تاریخی کتابیں اور خود ان کی آسمانی کتابیں تاریکی میں پڑی ہوئی ہیں۔آپ کو اس بات کا علم نہیں کہ یورپ میں ان کتابوں کے بارے میںآج کل کس قدر ماتم ہو رہا ہے اورسلیم طبیعتیں خود بخود اسلام کی طرف آتی جاتی ہیں اور بڑی بڑی کتابیں اسلام کی حمایت میں تالیف ہو رہی ہیں۔چنانچہ کئی انگریز امریکہ وغیرہ ممالک کے ہمارے سلسلہ میں داخل ہو گئے ہیں۔آخر جھوٹ کب تک چھپا رہے۔پھر سوچنے کا مقام ہے کہ وحی الٰہی کو ایسی کتابوں کے اقتباس کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔خوب یاد رکھو کہ یہ لوگ اندھے ہیں اور ان کی تمام کتابیں اندھی ہیں۔تعجب کہ جس