مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 288

طرف سے ہے شناخت ہوسکتا ہے۔پس یادر ہے کہ وہی سچا مذہب ہے جس کے ذریعہ سے خدا کا پتہ لگتا ہے۔دوسرے مذاہب میں صرف انسانی کوششیں پیش کی جاتی ہیں گویا انسان کا خدا پر احسان ہے جو اس نے اس کا پتہ دیا۔مگر اسلام میں خود خدا تعالیٰ ہرایک زمانہ میں اپنی اَنَاالْمَوْجُوْدُ کی آواز سے اپنی ہستی کا پتہ دیتا ہے۔جیسا کہ اس زمانہ میں بھی وہ مجھ پر ظاہر ہوا۔پس اس رسول پر ہزاروں سلام اور برکات جس کے ذریعہ سے ہم نے خدا کو شناخت کیا۔بالآخر میں دوبارہ افسوس سے لکھتا ہوں کہ آپ کا یہ قول کہ حضرت مریم کا اُخت ہارون ہونا آپ پر بد اثر ڈالتا ہے۔میری نگاہ میں آپ کی بہت نا واقفیت ظاہر کرتا ہے۔اس بیہودہ اعتراض پر پہلے علماء نے بھی بہت کچھ لکھا ہے۔اگر استعار ہ کے رنگ میں یا اور بنا پر خدا تعالیٰ نے مریم کو ہارون کی ہمشیرہ ٹھہرایا تو آپ کو اس سے کیوں تعجب ہوا۔جب کہ قرآن شریف بجائے خود بار بار بیان کر چکا ہے کہ ہارون نبی حضرت موسیٰ کے وقت میں تھا اور یہ مریم حضرت عیسیٰ کی والدہ تھی جو چودہ سَو برس بعد ہارون کے پید اہوئی تو کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان واقعات سے بے خبر ہے اور نعوذ باللہ اس نے مریم کو ہارون کی ہمشیرہ ٹھہرانے میں غلطی کی ہے۔کس درجہ کے خبیث طبع یہ لوگ ہیں کہ بیہودہ اعترا ض کر کے خوش ہوتے ہیں اورممکن ہے کہ مریم کا کوئی بھائی ہو جس کا نام ہارون ہو۔عدمِ علم سے عدمِ شئے تو لازم نہیں آتا۔مگر یہ لوگ اپنے گریبان میں منہ نہیں ڈالتے اور نہیں دیکھتے کہ انجیل کس قدر اعتراضات کا نشانہ ہے۔دیکھو یہ کس قدر اعتراض ہے کہ مریم کو ہیکل کی نذر کر دیا گیاتھا تاوہ ہمیشہ بیت المقدس کی خادمہ ہو اور تمام عمر خاوند نہ کرے۔لیکن جب چھ سات مہینہ کا حمل نمایاں ہو گیا۔تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجاّر سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پید اہوا۔وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔اب اعتراض یہ ہے کہ اگر درحقیقت معجزہ کے طور پر یہ حمل تھا تو کیوں وضع حمل تک صبر نہیں کیا گیا؟ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ عہد تو یہ تھا کہ مریم مدت العمر ہیکل کی خدمت میں رہے گی پھر کیوں عہد شکنی کر کے اور اس کو خدمت بیت المقدس سے الگ کر کے یوسف نجاّر کی بیوی بنایاگیا؟ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ توریت کی روسے بالکل حرام اور ناجائز تھا کہ حمل کی حالت میں کسی عورت کا نکاح کیا جائے۔پھر کیوں خلافِ حکم توریت مریم کا نکاح عین حمل کی حالت میں یوسف