مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 281

ہے مگر اس شرط سے کہ عفو کرنا قرین مصلحت ہو اور کبھی مناسب محل اور وقت کے مجرم کو سزا دینے کے لئے فرماتا ہے۔پس درحقیقت قرآن شریف خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کی تصویر ہے جو ہمیشہ ہماری نظر کے سامنے ہے۔یہ بات نہایت معقول ہے کہ خد اکا قول اور فعل دونوں مطابق ہونے چاہئیں۔یعنی جس رنگ اور طرز پر دنیا میں خد اتعالیٰ کا فعل نظر آتا ہے۔ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب اپنے فعل کے مطابق تعلیم کرے۔نہ یہ کہ فعل سے کچھ اور ظاہر ہو اورقول سے کچھ اور ظاہر ہو۔خدا تعالیٰ کے فعل میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ نرمی اور درگذر نہیں بلکہ وہ مجرموں کو طرح طرح کے عذابوں سے سزا یاب بھی کرتا ہے۔ایسے عذابوں کا پہلی کتابوں میں بھی ذکر ہے۔ہمارا خدا صرف حلیم خدا نہیں بلکہ وہ حکیم بھی ہے اور اس کاقہر بھی عظیم ہے۔سچی کتاب وہ کتاب ہے جو اس کے قانونِ قدرت کے مطابق ہے اور سچا قول الٰہی وہ ہے جو اس کے فعل کے مخالف نہیں۔ہم نے کبھی مشاہدہ نہیں کیا کہ خدا نے اپنی مخلوق کے ساتھ ہمیشہ حلم اور درگذر کا معاملہ کیا ہو اور کوئی عذاب نہ آیا ہو۔اب بھی ناپاک طبع لوگوں کے لئے خد اتعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ایک عظیم الشان اور ہیبت ناک زلزلہ کی خبر دے رکھی ہے جو اُن کوہلاک کرے گا اور طاعون بھی ابھی دور نہیں ہوئی۔پہلے اس سے نوحؑ کی ،قوم کا کیا حال ہوا؟ لوطؑ کی قوم کو کیا پیش آیا؟ سو یقینا سمجھو کہ شریعت کا مَاحَصَل تَخَلُّقْ بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ ہے یعنی خد ائے عزوجل کے اخلاق اپنے اندر حاصل کرنا یہی کمال نفس ہے۔اگر ہم یہ چاہیں کہ خدا سے بھی بڑھ کر کوئی نیک خلق ہم میں پید اہو تو یہ بے ایمانی اور پلید رنگ کی گستاخی ہے اورخدا کے اخلاق پر ایک اعتراض ہے۔اور پھر ایک اور بات پر بھی غور کرو کہ خد ا کاقدیم سے قانونِ قدرت ہے کہ وہ توبہ اور استغفار سے گناہ معاف کرتا ہے اور نیک لوگوں کی شفاعت کے طور پر دعا بھی قبول کرتا ہے۔مگر یہ ہم نے خدا کے قانونِ قدرت میں کبھی نہیں دیکھا کہ زید اپنے سر پر پتھر مارے اور اس سے بکر کی دردِ سر جاتی رہے۔پھر ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح کی خود کشی سے دوسروں کی اندرونی بیماری کادور ہونا کس قانون پر مبنی ہے اور وہ کون سا فلسفہ ہے جس سے ہم معلوم کر سکیں کہ مسیح کا خون کسی دوسرے کی اندرونی ناپاکی کو دور کرسکتا ہے۔بلکہ مشاہدہ اس کے بر خلاف گواہی دیتا ہے کیونکہ جب تک مسیح نے خود کشی کا ارادہ نہیں کیا تھا۔تب تک عیسائیوںمیں نیک چلنی اور خدا پرستی کا مادہ تھا۔مگر صلیب کے