مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 11
یعنی کیا یہ لوگ جو خالقیت خدا تعالیٰ سے منکر ہیں بغیر پیدا کرنے کسی خالق کے یوں ہی پیدا ہوگئے یا اپنے وجود کو آپ ہی پیدا کر لیا۔یاخود علّت العلل ہیں جنہوں نے زمین و آسمان پیدا کیا یا ان کے پاس غیر متناہی خزانے علم اور عقل کے ہیں جن سے اُنہوں نے ان سے معلوم کیا کہ ہم قدیم الوجود ہیں یا وہ آزاد ہیں اور کسی کے قبضہ قدرت میں مقہور نہیں ہیں۔یہ گمان ہو کہ جبکہ ان پر کوئی غالب اور قہار ہی نہیں تو وہ اُن کا خالق کیسے ہو۔اس آیت شریف میں یہ استدلال لطیف ہے کہ ہر پنج شقوق قدامت ارواح کہ اس طرزمدلل سے بیان فرمایا ہے کہ ہر ایک شق کے بیان سے ابطال اُس شق کا فی الفور سمجھا جاتا ہے اور تفصیل اشارات لطیفہ کی یوں ہے کہ شق اوّل یعنی ایک شے معدوم کا بغیر فعل کسی فاعل کے خود بخود پیدا ہو جانا اس طرح پر باطل ہے کہ اس سے ترجیح بلا مرجَّح لازم آتی ہے کیونکہ عدم سے وجود کا لباس پہننا ایک مؤثر مرجَّحکو چاہتا ہے جو جانب وجود کو جانب عد م پر ترجیح دے لیکن اس جگہ کوئی مؤثر مرجَّح موجود نہیں اور بغیر وجود مرجَّح کے خود بخود ترجیح پیدا ہو جانا محال ہے۔اور شق دوم یعنی اپنے وجود کا آپ ہی خالق ہونا اس طرح پر باطل ہے کہ اس سے تقدم شے کا اپنے نفس پر لازم آتا ہے کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ ہر ایک شے کے وجود کی علّتِ موجبہ اُس شے کا نفس ہے تو بالضرورت یہ اقرار اس اقرار کو مستلزم ہوگا کہ وہ سب اشیاء اپنے وجود سے پہلے موجود تھیں اور وجود سے پہلے موجود ہونا محال ہے۔اور شق سوم یعنی ہر ایک شے کا مثل ذات باری کیعِلَّتُ العلل اور صانع عالم ہونا تعددّ خداؤں کو مستلزم ہے اور تعدد خداؤں کا بالاتفاق محال ہے اور نیز اس سے دَور یا تسلسل لازم آتا ہے اور وہ بھی محال ہے۔اور شق چہارم یعنی محیط ہونا نفس انسان کا علوم غیر متناہی پر اس دلیل سے محال ہے کہ نفسِ انسانی باعتبار تعین تشخیص خارجی کے متناہی ہے اور متناہی میں غیر متناہی سما نہیں سکتا۔اس سے تحدید غیرمحدود کی لازم آتی ہے۔