مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page iii
۳ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ پیش لفظ (ایڈیشن دوم ) انبیاء اور مرسلین اپنی اقوام کو مختلف ذرائع سے اندار اور تبشیر کرتے رہے ہیں ان میں سے ایک ذریعہ خطوط کا بھی ہے چنانچہ قرآن کریم میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ملکہ سبا کے نام خط کا ذکر سورۃ النمل کی آیات ۲۹ تا ۳۱ میں ان الفاظ میں ملتا ہے ۔ اذْهَبْ بِكِتَبِى هُذَا فَأَلْقِهُ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُوْنَ قَالَتْ يَأَيُّهَا الْمَلَؤُا إِنِّي أُلْقِيَ إِلَى كِتَبُ كَرِيمٌ إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَنَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ترجمہ: یہ میرا خط لے جا اور اسے ان لوگوں کے سامنے رکھ دے پھر اُن سے ایک طرف ہٹ جا۔ پھر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔ ( یہ خط دیکھ کر ) اس (ملکہ ) نے کہا اے سردارو! میری طرف یقیناً ایک معزز خط بھیجا گیا ہے ۔ یقیناً وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے: اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا ، بن مانگے دینے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خطوط کے ذریعہ تبلیغ حق کا فریضہ ادا فرمایا ان میں سے قیصر روما ہر قل کے نام خط ، کسری شہنشاہ فارس کے نام خط ، مقوقس والی مصر کے نام خط، نجاشی شاہ حبشہ کے نام خط ، رئیس غسان کے نام خط اور رئیس بیمامہ کے نام خط قابل ذکر ہیں ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اپنی زندگی کے ابتدائی ایام سے ہی اسلام کی تائید میں مختلف اخبارات میں خطوط تحریر فرمایا کرتے تھے بعد میں یہ سلسلہ بڑھتا اور منظم ہوتا چلا گیا ۔۱۸۹۱ء میں آپ نے فتح اسلام تحریر فرمائی اس میں آپ تحریر فرماتے ہیں :۔ اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔ وہ کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں یہ ماننا ہے ۔ وہ لیا ہے مرنا ۔ یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی ، مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی