مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 10
مکتوبات احمد ۱۰ جلد اول محصور اور محد دو ہے اس کی شکل منطقی اس طرح پر ہے کہ ہر جسم اور روح ایک اندازہ مقرری میں محصور اور محدود ہے۔ اور ہر ایک وہ چیز کہ کسی اندازہ مقرری میں محصور اور محدود ہو اس کا کوئی حاصر او موراورمحدود محدد ضرور ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک جسم اور روح کے لئے ایک حاصر اور محمد دہے۔ اب اثبات قضیہ اولی کا یعنی محدود القدر ہونے اشیاء کا اس طرح پر ہے کہ جمیع اجسام اور ارواح میں جو جو خاصیتیں پائی جاتی ہیں عقل تجویز کر سکتی ہے کہ اُن خواص سے زیادہ خواص اُن میں پائے جاتے ہیں مثلاً انسان کی دو آنکھیں ہیں اور عند العقل ممکن تھا کہ اُس کی چار آنکھیں ہوتیں ۔ دومنہ کی طرف اور دو پیچھے کی طرف تا کہ جیسا آگے کی چیزوں کو دیکھتا ہے ویسا ہی پیچھے کی چیزوں کو بھی دیکھ لیتا۔ اور کچھ شک نہیں کہ چار آنکھ کا ہونا بہ نسبت دو آنکھ کے کمال میں زیادہ اور فائدہ میں دو چند ہے اور انسان کے پر نہیں اور ممکن تھا کہ مثل اور پرندوں کے اُس کے پر بھی ہوتے اور علی ہذا القیاس نفس ناطقہ انسانی بھی ایک خاص درجہ میں محدود ہے جیسا کہ وہ بغیر تعلیم کسی معلم کے خود بخود مجہولات کو دریافت نہیں کر سکتا ۔ قاسر خارجی سے کہ جیسے جنون یا مخموری ہے ، سالم الحال نہیں رہ سکتا بلکہ فی الفور اس کی قوتوں اور طاقتوں میں تنزل واقع ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح بذاتہ ادراک جزئیات نہیں کر سکتا جیسا کہ اس کو شیخ محقق بو علی سینا نے نمط سابع اشارات میں بتصریح لکھا ہے ۔ حالانکہ عند العقل ممکن تھا کہ ان سب آفات اور عیوب سے بچا ہوا ہوتا ۔ پس جن جن مراتب اور فضائل کو انسان اور اُس کی روح کے لئے عقل تجویز کر سکتی ہے وہ کس بات سے ان مراتب سے محروم ہے۔ آ یا تجویز کسی اور مجوز سے یا خود اپنی رضامندی سے ۔ اگر کہو کہ اپنی رضا مندی سے تو یہ صریح خلاف ہے۔ کیونکہ کوئی شخص اپنے حق ہے۔ میں نقص روا نہیں رکھتا اور اگر کہو کہ تجویز کسی اور مجوز سے۔ تو مبارک ہو کہ وجود خالق ارواح اور اجسام کا ثابت ہو گیا اور یہی مدعا تھا۔ دلیل سوم قياس الخلف ہے اور قیاس الخلف اُس قیاس کا نام ہے جس میں اثبات مطلوب کا بذریعہ ابطال نقیض اُس کے کیا جاتا ہے اور اس قیاس کو علم منطق میں خُلف اس جہت سے کہتے ہیں کہ خلف لغت میں بمعنی باطل کے ہیں اور اسی طرح اس قیاس میں اگر مطلوب کو کہ جس کی حقیقت کا دعویٰ ہے سچا نہ مان لیا جاوے تو نتیجہ ایسا نکلے گا جو باطل کو مستلزم ہوگا اور قیاس مذکور یہ ہے دیکھو سورۃ الطور الجزء ۲۷ - أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْ أَمْ هُمُ الْخَلِقُوْنَ - أَمْ خَلَقُوا السَّمَوتِ