مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 264
دیکھتا ہوں کہ میری زندگی میری صحت سے نہیں بلکہ میرے خدا کے حکم سے ہے۔پس اگر ڈوئی کا مصنوعی خدا کچھ طاقت رکھتا ہے تو ضرور میرے مقابل اس کو اجازت دے گا۔اگر تمام مسلمانوں کے ہلاک کرنے کے عوض میں صرف میرے ہلاک کرنے سے ہی کام ہو جائے تو ڈوئی کے ہاتھ میں ایک بڑا نشان آ جائے گا۔پھر لاکھوں انسان مریم کے بیٹے کو خدا مان لیں گے اور نیز ڈوئی کی رسالت کو بھی۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تمام دنیا کے مسلمانوں کی نفرت عیسائیوں کے خدا کی نسبت ترازو کے ایک پلہ میں رکھی جائے اور دوسرے پلہ میں میری نفرت رکھی جائے تو میری نفرت اور بیزاری عیسائیوں کے بناوٹی خدا کی نسبت تمام مسلمانوں کی نفرت سے وزن میں زیادہ نکلے گی۔میں سب پرندوں سے زیادہ کبوتر کا کھانا پسند کرتا ہوں کیونکہ وہ عیسائیوں کا خدا ہے۔معلوم نہیں کہ ڈوئی کی اس میں کیا رائے ہے۔کیا وہ بھی اس کی نرم نرم ہڈیاں دانتوں کے نیچے چباتے ہیں یا خدائی کی مشابہت کی وجہ سے اس پر کچھ رحم کرتے اور اس کی حرمت کے قائل ہیں؟ اس ملک کے ہندوؤں نے جب سے گائے کو پرمیشر کا اوتار مانا ہے تب سے وہ گائے کو ہرگز نہیں کھاتے۔پس وہ ان عیسائیوں سے اچھے رہے جنہوں نے اس کبوتر کی کچھ عظمت نہ کی جس کی شبیہ میں ان کا وہ خدا ظاہر ہوا جس نے مسیح کو آسمان سے آواز دی کہ تو میرا پیارا بیٹا ہے۔پس اس رشتہ کے لحاظ سے جیسا کہ سمجھا جاتا ہے، کبوتر مسیح کا باپ ہوا، گویا خدا کا باپ ٹھہرا۔مگرتب بھی عیسائیوں نے اس کے کھانے سے پرہیز نہیں کیا حالانکہ وہ اس لائق تھا کہ اس کو خداوند خداوند کہا جائے۔خدا نے جب کہ توریت میںیہ کہا کہ آدم کو میں نے اپنی صورت میں پیدا کیا تبھی سے انسان کا گوشت انسانوں پر حرام کیا گیاہے۔پھر کیا وجہ اور کیا سبب کہ کبوتر جو عیسائیوں کے خدا کا باپ ہے، جس نے مسیح کو بیٹے کا خطاب دیا، وہ کھایا جاتا ہے اور نہ صرف کھایا جاتا بلکہ اس کے گوشت کی تعریف بھی کی جاتی ہے جیسا کہ انسائیکلوپیڈیا صفحہ۸۵ جلد ۱۹ میں لکھاہے کہ کبوتر کا گوشت تمام پرندوں سے زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔جن لوگوں کو کبوتر کی قسم فروٹ پجن کھانے کا اتفاق خوش قسمتی سے ہوا ہے انہوں نے یہ شہادت دی ہے اور یہود کی شریعت کے مطابق جس کو بکرا ذبح کرنے کی توفیق نہ ہو وہ کبوتر ذبح کرے (لوقا ۲۴: ۲) اور مریم نے بھی دو کبوتر ذبح کئے تھے کیونکہ وہ غریب تھی۔(لوقا۲۴:۲) اب دیکھو ایک طرف تو کبوتر کو خدا بنایا اور ایک طرف کبوتر پر ہمیشہ چھری پھیر دی جاتی ہے۔مسیح تو صرف ایک دفعہ صلیب پر چڑھ