مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 259
یک مسلمان کو ایسا نہیں سمجھتا لیکن میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ کروڑہا انسان ابھی ان میں ایسے موجود ہیں کہ بنی نوع کے خون کے پیاسے ہیں۔مجھے تعجب ہے کہ کیا وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کو کوئی قتل کر دے اور ان کے یتیم بچے اور ان کی بیوہ عورتیں بیکسی کی حالت میں رہ جائیں؟ پھر وہ دوسروں کی نسبت ایسا کرنا کیوں روا رکھتے ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ اگر یہ مرض مسلمانوں کے لاحق حال نہ ہوتی تو وہ تمام یورپ کے دلوں کو فتح کر لیتے۔ہر ایک پاک کانشنس گواہی دے سکتا ہے کہ عیسائی مذہب کچھ بھی چیز نہیں۔انسان کو خدا بنا دینا کسی عقلمند کا کام نہیں۔یسوع مسیح میں اَور انسانوں کی نسبت ایک ذرّہ خصوصیت نہیں بلکہ بعض انسان اس سے بہت بڑھ کر گزرے ہیں۔اور اب بھی یہ عاجز اسی لئے بھیجا گیا ہے کہ تا خدائے قادر لوگوں کو دکھلاوے اور اس کا فضل اس عاجز پر اس مسیح سے بڑھ کر ہے اور پھر یہ غلطیاں کہ گویا یسوع مسیح اب تک زندہ ہے اور گویا وہ آسمان پر ہے اور گویا وہ سچ مُچ مُردے زندہ کیا کرتا تھا اور اس کے مرنے پر یروشلم کے تمام مُردے جو آدم کے وقت سے لے کر مسیح کے وقت تک مر چکے تھے زندہ ہو کر شہر میں آ گئے تھے۔یہ سب جھوٹی کہانیاں ہیں جیسا کہ ہندوؤں کے پورانوں میں ہیں۔اور سچ صرف اس قدر ہے کہ اس نے بھی بعض معجزات دکھلائے جیسا کہ نبی دکھلاتے تھے اور جیسا کہ اب خدا تعالیٰ اس عاجز کے ہاتھ پر دکھلا رہا ہے۔مگر مسیح کے کام تھوڑے تھے اور جھوٹ ان میں بہت ملایا گیایہ کس قدر قابل شرم جھوٹ ہے کہ وہ زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ گیا۔مگر اصل حقیقت صرف اس قدر ہے کہ وہ صلیب پر مرا نہیں۔واقعات صاف گواہی دیتے ہیں کہ مرنے کی کوئی بھی صورت نہیں تھی۔تین گھنٹہ کے اندر صلیب پر سے اُتارا گیا، شدتِ درد سے بیہوش ہو گیا۔خدا کو منظور تھا کہ اس کو یہودیوں کے ہاتھ سے نجات دے۔اس لئے اس وقت بباعث کسوف خسوف سخت اندھیرا ہو گیا۔یہودی ڈر کر اس کو چھوڑ گئے اور یوسف نام ایک پوشیدہ مرید کے وہ حوالہ کیا گیا اور دو تین روز ایک کوٹھہ میں جو قبر کے نام سے مشہور کیا گیا، رکھ کر آخر افاقہ ہونے پر ملک سے نکل گیا اور نہایت مضبوط دلائل سے ثابت ہو گیا ہے کہ پھر وہ سیر کرتا ہوا کشمیر میں آیا۔باقی حصہ عمر کا کشمیر میں بسر کیا۔سری نگر محلہ خانیار میں اس کی قبر ہے۔افسوس خواہ نخواہ افترا کے طور پر آسمان پر چڑھایا گیا اور آخر قبر کشمیر میں ثابت ہوئی۔اس بات کے ایک دو گواہ نہیں بلکہ بیس ہزار سے زیادہ گواہ ہیں۔اس قبر کے بارے میں ہم نے بڑی تحقیق سے ایک کتاب لکھی ہے جو عنقریب شائع کی جائے گی۔