مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 252

بتاؤں کوئی شخص کسی ایسے آدمی کے ساتھ نیکی نہیں کر سکتا جس کو وہ اپنا دشمن سمجھتا ہو مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر مجھے کہیں ایسا موقع ملے کہ جب میں بشپ صاحب کے ساتھ نیکی بھی اور بدی بھی کرنے کی طاقت رکھتا ہوں تو میں اس کے ساتھ ایسی نیکی کروں گا جو تمام دنیا کو حیرت میں ڈال دے۔لوگوں کو پاکیزگی کے راستہ کی طرف بُلانے کی طاقت اور ان کی تبدیلی کے لئے سچا جوش سچی محبت سے پیدا ہوتے ہیں دشمنی عقل کو تاریک کر دیتی ہے اور ہمدردی کو نابود کر دیتی ہے۔قرآن شریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہتا ہے کہ  اور پھر ایک دوسری جگہ پرجس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے تمہارے پاس ایک نبی بھیجا ہے جس کا دل تمہاری ہمدردی سے ایسا بھرا ہوا ہے کہ تمہارے غم اور تکلیفیں اس کو ایسا ہی رنج پہنچاتی ہیں گویا کہ وہ اسی کا رنج اور تکلیفیں ہیں اور تمہاری بہتری اور خوشحالی کے لئے وہ بڑی خواہش رکھتا ہے اور دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی کیا تو اپنے آپ کو ہلاک کر دے گا اس غم کے لئے کہ یہ لوگ سچائی کو قبول نہیں کرتے۔آخری آیت اس سچی قربانی کی طرف اشارہ کرتی ہے جو خدا تعالیٰ کے مرسل لوگوں کی اصلاح کے لئے کرتے ہیں یہ وہ آیتیں ہیں جن پر میں عمل کرتا ہوں اور اس سے ہر ایک شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ ان لوگوں کی طرف جو اپنے آپ کو میرا دشمن سمجھتے ہیں میرے خیالات کیسے ہونے چاہئیں۔قبل اس کے کہ میں اس چٹھی کو بند کروں میں آپ کو یہ بھی یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اگرچہ مباحثہ کی درخواست پر صرف مرزا صاحب کے ہی چند پیروؤں کے دستخط تھے مگر تمام مسلمان عام طور پر اس کی منظوری کے منتظر ہیں مذہب کے اصل اصولوں کے ساتھ مرزا صاحب کا دوسرے مسلمانوں سے اختلاف نہیں بلکہ اختلاف صرف ایسی باتوں میں ہے جیسا کہ ہر ایک بڑے مذہب کے مختلف فرقوں میں ہوا کرتا ہے اور خود عیسائیت سب سے بڑھ کر ان اختلافوں کو اپنے اندر رکھتی ہے اگر آپ اس امر کو بڑی وقعت دیتے ہیں تو ہزار ہا تعلیم یافتہ مسلمان جو مرزا صاحب کے پیرو نہیں درخواست مباحثہ پر دستخط کرنے پر تیار ہیں ترجمہ کی کاپیوں کے ساتھ جو آپ نے مانگی تھیں میں انیس ماہ گذشتہ کا انڈین ڈیلی ٹیلیگراف بھی آپ کو بھیجتا ہوں جس نے اس چیلنج پر کچھ ریمارک کئے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ اپنے جواب پر دوبارہ غور کرنے کے بعد آپ کسی بہتر نتیجہ پر پہنچیں گے اور اس قدر منتظر دلوں کو جو اس کی منظوری کے منتظر ہیں مایوس نہ کریں گے۔دستخط محمد علی سکرٹری