مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 251

نہ عیسویت اور نہ اسلام ہے اس کو نبی بھی نہیں سمجھتے اور اس طرح پر اس کے مرتبہ کی بڑی حقارت کرتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ ایسے لوگوں سے کثرت سے ملتے بھی ہوں گے مگر میں یہ خیال نہیں کرتا کہ آپ نے ان کی نسبت کبھی ایسا بغض اور عداوت کا خیال ظاہر کیا ہو جیسا کہ آپ نے اپنی چٹھی میں جو میرے نام تھی مرزا صاحب کی نسبت ظاہر کیا ہے لیکن اس جگہ میں آپ کو ایک اور بڑے ضروری امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جب اس بات کا ذکر مرزا صاحب کے سامنے ہوا اور ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا جس طرح پر بشپ صاحب آپ سے دوستانہ تعلقات کے ساتھ ملنے سے انکار کرتے ہیں آپ بھی بشپ صاحب کی نسبت ایسا ہی خیال رکھتے ہیں تو انہوں نے مفصلہ ذیل جواب دیا:۔’’میں دنیا میں کسی کو اپنا دشمن نہیں سمجھتا میں آدمیوں کے ساتھ بغض نہیں رکھتا بلکہ ان جھوٹے عقیدوں کے ساتھ جو وہ رکھتے ہیں انسانوں کے متعلق میرے خیالات پرلے درجہ کی ہمدردی اور نیک نیتی کے ہیں تو پھر کس طرح میں ایسے شخص کو اپنا دشمن سمجھ سکتا ہوں جو اپنے ہم مذہبوں میں معزز مانا گیا ہے اور علاوہ ازیں اپنے عہدہ اور تعلیم کے لحاظ سے قابلِ عزت ہے میں اس سے محبت رکھتا ہوں اگرچہ میں اس کے اصولوں کو پسند نہیں کرتا مگر میری نفرت ان عقائد کے ساتھ صرف اسی قدر ہے جہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی صفات انسانوں کی طرف منسوب کی گئی ہیں اور انسانی نقص اور کمزوریاں ربّ العالمین کی طرف منسوب کی جاتی ہیں میں بشپ صاحب کو دوستانہ تعلقات کے ساتھ ملنے سے نفرت نہیں رکھتا کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی فریق دوسرے سے کوئی فائدہ حاصل کرے کیونکہ ضروری ہے کہ نیک نیتی کا بیج پھل دے مصلح یا واعظ ہونے کی حیثیت میں جو انسان کو فرائض ادا کرنے پڑتے ہیں ان سب سے بڑھ کر ضروری امر یہ ہے کہ جو لوگ اس کے ساتھ عقائد میں اختلاف رکھتے ہوں وہ ان کے ساتھ بڑی خوشی سے ملے۔حق بات یہ ہے کہ میں نہ صرف اپنی مجددیت کے کام کو ہی چھوڑنے والا ہوں گا بلکہ اخلاقی قوانین کو بھی سخت صدمہ پہنچانے والا تصور کیا جاؤں گا اگر میں ان لوگوں کو اپنا دشمن سمجھ لوں جن کے ساتھ اس وجہ سے کہ وہ بدقسمتی سے غلطیوں میں پڑ گئے ہیں مجھے ہمدردی اور رحم سے کام لینا چاہیے اگر میں اس کے برعکس کروں تو میں ایک بڑے کثیر گروہ کو ان مقدس اور اعلیٰ درجہ کی سچائیوں سے محروم رکھنے والا ٹھہروں گا جو میرا فرض ہے کہ سب کو