مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 8
مکتوبات احمد A جلد اول بخدمت پنڈت کھڑک سنگھ صاحب کہ جن کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم پانچ منٹ میں جواب دے سکتے ہیں یہ گزارش ہے کہ اب اپنی اُس استعداد علمی کو رو بروئے فضلاء نامدار ملت مسیحی و برہمو سماج کے دکھلاویں اور جو جو کمالات اُن کی ذات سامی میں پوشیدہ ہیں منصہ ظہور میں لاویں۔ ورنہ عوام کالانعام کے سامنے دم زنی کرنا صرف لاف گزاف ہے۔ اس سے زیادہ نہیں ۔ اب میں ذیل میں مضمون موعودہ لکھتا ہوں ۔ مضمون ابطال تناسخ و مقابلہ فلسفہ وید و قرآن جس کے طلب جواب میں صاحبان فضلاء آریہ سماج یعنی پنڈت کھڑک سنگھ صاحب ، سوامی پنڈت دیانند صاحب، جناب با وا نرائن سنگھ صاحب، جناب منشی کنہیا لال صاحب، جناب منشی بختاور سنگھ صاحب ایڈیٹر آریه در پن ، جناب با بوساردا پرشاد صاحب، جناب منشی شرم پت صاحب سیکرٹری آریہ سماج قادیان ، جناب منشی اندر من صاحب مخاطب ہیں بوعدہ انعام پانسور و پیہ۔ آریہ صاحبان کا پہلا اصول جو مدار تناسخ ہے یہ ہے کہ دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں اور سب ارواح مثل پر میشور کے قدیم اور انادی ہیں اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی پرمیشور ہیں ۔ میں کہتا ۔ ہوں کہ یہ اصول غلط ہے اور اس پر تناسخ کی بڑی جما نا بنیاد فاسد پر فاسد ہے۔ قرآن مجید کہ جس پر تمام تحقیق اسلام کی معنی ہے اور جس کے دلائل کو پیش کرنا بغرض مطالبہ دلائل ویدا اور مقابلہ با ہمی فلسفہ مندرجہ وید اور قرآن ہم وعدہ کر چکے ہیں ، ضرورت خالقیت باری تعالیٰ کو دلائل قطعیہ سے ثابت کرتا ہے ۔ چنانچہ وہ دلائل یہ تفصیل ذیل ہیں ۔ دلیل اوّل جو برہان لی ہے۔ یعنی علت سے معلول کی طرف دلیل گئی ہے ۔ دیکھو سورہ رعد الجز و ١٣ - اللهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ، یعنی خدا ہر ایک چیز کا خالق ہے کیونکہ وہ اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے اور واحد بھی ایسا کہ قہار ہے یعنی سب چیزوں کو اپنے ماتحت رکھتا ہے اور ان پر غالب ہے۔ یہ دلیل بذریعہ شکل اوّل کے جو بدیہی الانتاج ہے اس طرح پر قائم ہوتی ہے کہ صغری اس کا یہ ہے جو خدا واحد اور قہار ہے اور کبری یہ کہ ہر ایک جو واحد اور قہار ہو وہ تمام موجودات ما سوائے اپنے کا ، خالق ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جو خدا تمام مخلوقات کا خالق ہے ۔ اثبات قضیہ اولی یعنی صغری کا اس طور سے ہے کہ واحد اور قہار ہونا خدا تعالیٰ کا اصول مسئلہ الرعد: 12