مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 250
زمانہ میں بڑے بڑے آدمیوں کے مدنظر رہے ہیں اگرچہ آپ عیسائی کلیسیا کی اندر سے مرمت کو اپنا اصل فرض سمجھتے ہیں مگر اس سے آپ انکار نہ کر سکیں گے کہ ہر ایک نیک عیسائی کا اصلی فرض ان لوگوں کو زندگی اور روشنی کی طرف لانے کا ہونا چاہیے جو اس کی رائے میں موت اور تاریکی کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں اور جو اس لئے ان لوگوں کی نسبت جو بپتسمہ لے چکے ہیں سخت بڑی خطرناک حالت میں ہیں بپتسمہ والے تو آپ کے نزدیک دوزخ سے بچ گئے مگر بے بپتسمہ کو عیسائی عقیدہ کے رو سے ہمیشہ کے لئے دوزخ اور سزا میں ڈالا جائے گا اب میں آپ کے کانشنس کو اپیل کرتا ہوں کہ ان دونوں کاموں میں سے آپ کے نزدیک کونسا زیادہ ضروری ہے آیا ان لوگوں کی حاجتوں کی طرف توجہ کرنا جو خطروں سے نکل چکے ہیں یا ان لوگوں کا ہاتھ پکڑنا جو موت اور تاریکی کے گڑھے میں گر رہے ہیں کیا آپ مباحثہ کی تجویز کو اس دلیل پر رد کر سکتے ہیں کہ آپ اپنی ساری زندگی میں سے ایسے نیک کام کے لئے پانچ دن بھی علیحدہ نہیں کر سکتے۔پھر آپ مرزا غلام احمد صاحب کو اس وجہ پر دوستانہ تعلقات کے ساتھ ملنے سے انکار کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک ایسا نام اختیار کیاہے جس کی عیسائی لوگ اپنا خداوند اور مالک سمجھ کر عزت اور عبادت کرتے ہیں اگر امر واقع یہ بھی ہوتا جیسا آپ نے خیال کیا ہے تو دشمنی اور دوستانہ تعلقات کے قطع کے لئے یہ کوئی دلیل نہیں ہو سکتی کیونکہ آپ کی مقدس بائیبل تو یہ سکھاتی ہے کہ دشمنوں سے بھی پیار کرو۔اپنے مذہبی مخالف کے ساتھ اس قسم کا سلوک کسی مذہب کے پیروؤں کی طرف سے بھی نہیں ہونا چاہیے۔چہ جائیکہ عیسائی مذہب کے پیروؤں کی طرف سے ہو اور پھر ان میں سے مخصوصاً کلیسیا کے ایک ایسے بڑے بزرگ کی طرف سے جس کا فرض صرف یہی نہیں کہ وہ خود ہی متی باب۵ آیت ۴۴ پر عمل کرے بلکہ یہ بھی کہ وہ یہ تعلیم دوسرے عیسائیوں کو سکھائے بلکہ غیر عیسائیوں کو بھی اس کا وعظ کرے مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مرزا صاحب یہ نہیں کہتے کہ وہ سچ مچ یسوع مسیح ہیں بلکہ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ بروزی طور پر اس نبی کے رنگ میں آئے ہیں اور جس طرح پر اس نے تعلیم دی تھی اس طرح پر تعلیم دیتے ہیں جیسا کہ اس سے پہلے بھی یوحنا الیاس کے رنگ میں بروزی طور پر آچکا ہے علاوہ ازیں مسلمان حضرت عیسیٰ کو ایک سچا اور بزرگ نبی سمجھتے ہیں اور مرزا صاحب جو اپنے زمانہ میں اوّل المسلمین ہیں ان سب سے بڑھ کر ان کو ایسا سمجھتے ہیں حالانکہ کروڑہا دوسرے لوگ جن کا مذہب