مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 249
کی جاتی تھی غرض کہ ہر ایک طرح سے اس قابل تھی کہ آپ بلاتغیر شرائط اس کو منظور کرتے جن مسلمانوں نے آپ کو خطاب کیا تھا وہ ملک کے مختلف حصوں سے تھے اور ذی ثروت اور اعلیٰ درجہ کی تعلیم رکھنے والے تھے جن کی درخواست پر آپ کو بہت توجہ کرنی چاہیے تھی تجویز کرنے میں خلوص دل اور نیک نیتی سے یہ مقصد مدنظر رکھا گیا تھا کہ عام لوگوں کو اس شک سے باہر نکالا جائے جس میں وہ سچے مذہب کے متعلق پڑے ہوئے ہیں مباحثہ کی شرائط ایسی منصفانہ تھیں جیسے کہ خواہش کی جا سکتی ہے کیونکہ مخالفانہ حملوں کی اس میں اجازت نہ تھی آپ کا ایک عرصہئِ دراز کے لئے اس ملک میں بطور مشنری کے کام کرنا مشرقی لوگوں کے طریقوں مذہبوں اور زبانوں کے ساتھ واقفیت رکھنا۔لاہور میں جو آپ نے لیکچر دئے تھے ان میں اپنے دلائل کی تردید کو جو مسلمانوں کی طرف سے ہوئی تھی حوصلہ کے ساتھ سننا اور ان تمام واقعات کو آپ کے موجودہ بلند مرتبہ سے اور بھی وقعت مل جانا ان تمام باتوں نے مسلمانوں کو یقین دلا دیا تھا کہ مباحثہ کے میدان میں عیسائیت کی طرف سے آپ بہترین وکیل ہو سکتے ہیں اور پھر آپ کی طرف سے اس ابتدائی کارروائی کا ہونا جس میں آپ نے مسلمانوں کو اپنے پیغمبر کی عصمت اور زندگی بمقابلہ یسوع مسیح کے ثابت کرنے کو بُلایا جو ایک ایسا مباحثہ تھا جس میں مسلمانوں کی طرف سے نہ تو اچھی طرح سے تیاری ہو سکتی تھی اور نہ ان کو کافی وقت مل سکتا تھا اور نہ اپنا اچھا وکیل پیش کر سکتے تھے یہ اور بھی مسلمانوں کی ترغیب کا باعث ہوا کہ آپ کو ایک ایسے مباحثہ کی طرف بُلایا جائے جس میں دونوں مذہبوں کی اور ان کے بانیوں کی فضیلتوں کا زیادہ مناسب طور پر اور زیادہ انصاف سے امتحان ہو سکے یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ اسلام کے جس وکیل کو آپ کے مقابل پر انہوں نے پیش کیا تھا وہ کوئی عام ملّاؤں یا واعظوں میں سے نہ تھا کیونکہ ان کی طرف سے ایسا معمولی حریف پیش کرنا گویا آپ کی قابلیت کی تحقیر کرنا ہوتا بلکہ جیسا آپ کی حیثیت اور قابلیت اعلیٰ درجہ کی تھی ویسا ہی آپ کے بالمقابل جو حریف پیش کیا گیا وہ بھی ایک اعلیٰ درجہ کی شہرت اور حیثیت والا آدمی تھا جس پر اس وقت اس کے مسیح موعود کے دعویٰ کرنے کے سبب سے تمام ہندوستان کی نظر تھی اور جس کے فرقہ نے باوجود اندرونی اور بیرونی سخت درجہ کی مخالفت کے ایک حیرت انگیز ترقی کر دکھائی تھی جب دنیا کے دو سب سے بڑے مذہبوں کے دو ایسے مشہور وکیل موجود ہوں تو مناسب نہیں کہ عوام کو ان سوالوں کے متعلق تاریکی میں چھوڑا جائے جو ہر ایک