مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 241
مکتوب نمبر۱۳ یہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا تھا اور ایک مجلس کی طرف سے بھیجا گیا تھا آخر میں جو اسماء کی فہرست ہے وہ میں نے چھوڑ دی ہے۔(ایڈیٹر) جناب فضیلت مآب مکرم رائٹ ریورنڈ جارج لیفرائے ڈی ڈی بشپ صاحب لاہور بعد آداب نیاز مندانہ بکمال ادب خدمت عالی میں یہ گزارش ہے کہ چونکہ یہ مختصر زندگی دنیا کی بہت جلد اپنے دورہ کو پورا کر رہی ہے اور عنقریب وہ زمانہ آتا ہے کہ ہمارے وجود کا نام و نشان بھی نہ ہوگا۔اس لئے ہم لوگوں کے دلوں میں یہ غم دامنگیر ہے کہ کسی طرح راست روی اور سچی خوشحالی کے ساتھ یہ سفر انجام پذیر ہو اور اس مذہب پر خاتمہ ہو جو درحقیقت خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے۔اور اگر ہم حق پر نہیں ہیںتو ہمارے دل اس سچائی کے قبول کرنے کے لئے تیار رہیں جو روشن دلیلوں کے ساتھ پیش کی جائے۔اور اگر کوئی بزرگ مردِ میدان بن کر عیسائی مذہب کی حقانیت ہم پر ثابت کرے، تو اس احسان سے بڑھ کر ہمارے نزدیک کوئی احسان نہیں ہوگا۔اس تحقیق کے لئے ہمارا دل درد مند ہے اور ہم دلی شوق سے چاہتے ہیں کہ اسلام اور عیسائی مذہب کا ایک مقابلہ ہو کر ہم اس رسول صادق کے آستانہ پر اپنا سر رکھیں جو پاکیزگی اور خوبی اور الٰہی طاقت اور اخلاقی کمالات میں تمام نوعِ انسان سے سبقت لے جانے والا ثابت ہو جائے۔اور اس دن سے جو آپ نے بمقام لاہور اس مضمون پر تقریر کی کہ نبیئِ معصوم اور زندہ رسول کون ہے؟ ہمارے دل بول اُٹھے کہ اس ملک میں آپ ہی ایک ہیں جو عیسائی مذہب میں جلیل القدر فاضل ہیں۔تب سے ہمارے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ اس کام کے لئے عیسائی صاحبوں میں سے بہتر اور کوئی نہیں ملے گا کیونکہ آپ کی